بریکنگ نیوز ڈیل یا طاقتور حلقوں کا دباﺅ؟ دھرنا موخر ‘ وزیر اعظم کا استعفیٰ ‘ فیصلہ ہو گیا ؟

اسلام آباد (ہاٹ لائن انویسٹی گیشن سیل) ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے دو نومبر کے دھرنے اور اسلام آباد کو لاک ڈاﺅن سے بچانے کیلئے طاقتور حلقوں کی مداخلت سے محفوظ راستہ نکالنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت کی طرف سے ذمہ دار شخصیات نے عندیہ دیدیا تھا کہ اگر عمران خان غیر قانونی طریقے سے حکومت گرانے کا طریقہ ترک کر دیں‘ لاک ڈاﺅن اور دھرنے کو منسوخ کر دیں تو اس صورت میں وزیر اعظم پانامہ لیکس کے فیصلے تک اپنے عہدے سے مستعفی ہو سکتے ہیں۔ ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ سپریم کورٹ کمیشن بناتے وقت وزیر اعظم کو عہدے سے الگ ہونے کیلئے کہہ سکتے ہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سپریم کورٹ تمام جماعتوں کی تحریری یقین دہانی کے بعد جو ٹی او آرز بنائے اور کمیشن تشکیل دے اس سے قبل وزیر اعظم کو عہدے سے الگ ہونے کیلئے کہہ دے ۔ دوسری صورت میں سپریم کورٹ کے تشکیل دیئے گئے ٹی او آرز کی روشنی میں جو کمیشن بنایا جاتا ہے وہ کمیشن اگر اپنی رپورٹ میں وزیر اعظم کو گناہگار قرار دیتا ہے تو اس صورت میں بھی وزیر اعظم عہدے سے الگ ہو جائیں گے۔ ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ (ن) لیگ اس امر پر سنجیدگی کیساتھ غور کر رہی ہے کہ بجائے اس کے عدالت وزیر اعظم کو فارغ کرے وزیر اعظم کمیشن کی انکوارئری تک خود اپنے عہدے سے الگ ہو جائیں۔ اس حوالے سے تجویز پر غور کیا جا رہا ہے تا ہم ابھی اس حوالہ سے حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ تمام فیصلے چند روز قبل راحیل شریف سے اسحاق ڈار ‘ میاں شہباز شریف اور نثار علی خان کی جو ملاقات ہوئی تھی اس میں طے ہو گئے تھے۔