پنجابی اور پختونوں کو لڑانے کا کام کیا گیا ،سپریم کورٹ کارکنوں پر وحشیانہ تشدد کا از خود نوٹس لے ، پرویز خٹک

پشاور(ہاٹ لائن)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پرامن کارکنان اور نہتے عوام پر حکمرانوں کے وحشیانہ تشدد کا ازخود نوٹس لے ،یہ لوگ خود کو آئین اور قانون سمجھتے ہیں،اِنہوں نے صوبوں کے درمیان نفاق ڈالنے کی کوشش اور پنجابی پختون کو آمنے سامنے دشمن بنا کر کھڑا کرنے کا اقدام کیا ہے ،اپنی کمزوریاں چھپانے کیلئے قوم میں دراڑیں ڈال کر صوبوں کے عوام کو غلط پیغام دیا ہے، لہٰذا نہتے عوام پر جان لیو ا تشدد بنیادی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے اور ملک کو توڑنے کی اس مبینہ سازش کا ازخود نوٹس لیا جائے ۔نوشہرہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہاکہ میں وفاقی وزیر داخلہ ، سیکرٹری داخلہ ،آئی جی پنجاب اور کمانڈنٹ ایف سی سے پوچھتا ہوں کہ انہوں نے نہتے عوام پر جو تشدد کیا وہ کس قانون کے تحت کیااور اُن کا جرم کیا تھا؟ وزیراعلیٰ نے کہاکہ وفاقی وزیر داخلہ نے تسلیم کیا ہے کہ انہوں نے نہتے عوام پر لاٹھی چارج اور تشدد کیا ہے ،وہ اپنے اس اقدام کے حق میں غلط دلیلیں بھی دیتے ہیں،ان سے پوچھا جائے کہ یہ کس آئین اور قانون کے تحت کیا گیا ہے ؟کس قانون کے تحت سڑکیں بند کی گئی ہیں ؟کون سے آئین کے تحت نہتے عوام پر جان لیوا کاروائی کی گئی ہے؟ہم پرامن طریقے سے اپنی قائد کی کال پر اُسے ملنے اسلام آباد جارہے تھے، کوئی دھرنا دینے یا جلسہ کرنے کا ہمارا کوئی پروگرام نہیں تھا ،ہم نے توحکمرانوں کے بند کئے ہوئے راستے کھولے ہیں ،اسلام آباد بند کرنے کا الزام غلط ہے ،حکمرانوں نے پورا پاکستان جام کر رکھا تھا ہم نے اسے کھولا ہے ،ہمارا کوئی پلان نہیں تھا اور نہ ہی اسلام آباد بند کرنے کیلئے ہمارے پاس کوئی سوچ تھی ،ان لوگوں نے خواہ مخواہ ایک ہوا کھڑی کی ملک کو یرغمال بنایا اور اپنے کرتوت چھپانے کیلئے نہتے عوام کو ظلم کا نشانہ بنایا اور اس غیر قانونی اور غیر آئینی عمل پر بغلیں بجاتے رہے ،صوبوں کے عوام کو بہت غلط پیغام دیا ،دشمنی کو ہوا دی جو ملک کو توڑنے کی مبینہ سازش ہے ۔