پی ٹی وی کے معروف ڈرامہ پروڈیوسر یاور حیات انتقال کرگئے

لاہور (ہاٹ لائن) پی ٹی وی کے معروف ڈرامہ پروڈیوسر یاور حیات 72برس کی عمرمیں سی ایم ایچ ہسپتال میں انتقال کرگئے ۔وہ کچھ عرصے سے پھیپھڑوں کے عارضے میں مبتلاتھے۔مر حوم کی نمازجنازہ آج ان کی رہائش گاہ غالب مارکیٹ گلبرگ پراداکی جائے گی۔ مرحوم نے پسماندگان میں ایک بیوہ ،تین بیٹے اورتین بیٹاں چھوڑی ہیں۔ یاور حیات 18اکتوبر1943ء کوپیداہوئے۔ ان کے والدعظمت حیات فوج میں بریگیڈئرتھے ۔وہ فلم انڈسٹری کے معروف ہدایتکار،فلمسازاورمصنف انورکمال پاشاکے بھانجھے اور فلم رائٹرمحمدکمال پاشاکے بہنوئی تھے۔انہوں نے 1965میں پی ٹی وی کوجوائن کیااور1973ء میں نشرہونے والی ڈر امہ سیریل ’’جھوک سیال‘‘ سے شہرت ملی جسے ملکہ پکھراج کے شوہرسیدشبیرحسین نے تحریرکیاتھا۔بعدازاں انہوں نے ’’فرار،کنڈی ،سدراں،قلعہ کہانی اور،مہنگائی ‘‘جسے کئی ڈرامے تخلیق کیے۔1981ء میں نشرہونے والے ڈرامے ’’دہلیز‘‘نے انہیں شہرت کی بلندیوں پرپہنچادیاجس کے مصنف امجداسلام امجدتھے ۔یارورحیات کاشمارپی ٹی وی کے اُن چندپروڈیوسرزمیں ہوتاہے جنہوں نے پاکستانی ٹی وی ڈرامے کوجلابخشی۔ان کے ڈراموں سے بے شمارفنکاروں نے شہرت حاصل کی ۔اداکارہ روحی بانو،عظمیٰ گیلانی ،عابدعلی،خالدہ ریاست ،محبوب عالم ،جمیل فخری اوردوسرے کئی سینئر فنکاروں کو اپنے ڈراموں میں متعارف کرایا۔انہوں نے 32برس تک پی ٹی وی میں ملازمت کی اوران کاآخری ڈرامہ ’’یہ کہانی نہیں ہے‘‘ 2006ء میں نشرہواجسے منوبھائی نے لکھاتھا۔یاورحیات کے مشہورڈراموں میں ’’اندھیرا اُجالا،زنجیر،قصائی اور مہنگائی،نشیمن ، سمندر،جزیرہ،جھیل،آدم زاد،شناخت،پرواز شامل ہیں۔شوبزسے وابستہ لوگوں نے مرحوم کے انتقال پرگہرے دکھ کااظہارکیاہے ۔اداکار محمدقوی خان ،عابدعلی،فردوس جمال ،توقیرناصر،آصف رضامیر،ثمینہ احمداوردوسرے فنکاروں نے کہاکہ یاورحیات کے انتقال سے ٹی وی ڈرامے کاایک باب ختم ہوگیا۔ان کی خدمات کوہمیشہ یادرکھاجائے گا۔