الطاف حسین کی وطن دشمنی اور بھارت یاترا سے پوری دُنیا واقف ہے،پرویزخٹک

پشاور(ہاٹ لائن) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ متحدہ قومی مومنٹ کے قائد الطاف حسین کی وطن دشمنی اور بھارت یاترا سے پوری دُنیا واقف ہے ۔یہ عجیب بات ہے کہ جن لوگوں کی وطن سے غداری ، دشمن سے دوستی ، ٹارگٹ کلنگ ، بھتہ خوری اور لاشوں کی سیاست سے بچہ بچہ واقف ہے جو اپنی ملک دشمن اور انسانیت سوز کاروائیوں کی وجہ سے اب قانون کے نرغے میں ہیں ۔وہ بھی جمہوری آواز کو دبانے کی حمایت اور بنیادی حقوق کے خلاف لایعینی باتیں اور قراردادیں پیش کررہے ہیں۔اُن کی گوں مگوں کی حالت قابل فہم اور قابل رحم ہے ۔ یہ ذاتی فائدہ اُٹھانے کی تاک میں ہیں ۔ان کو شرم آنی چاہیئے۔دوسرے پر زبان درازی سے پہلے اپنے گریباں میں جھانکنا چاہیئے اپنی برائیوں پر نظر رکھنی چاہیئے ۔ یہ لوگ اپنی وطن دشمنی اور برائیوں کو مان چکے ہیں اس کے باوجود اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہے ۔انہوںنے پاکستان دشمن قوتوں کے ساتھ ملکر ملک کو توڑنے کی سازش کی ۔ان کا قائد پاکستان دشمنی کا اظہار کرتے ہوئے بڑا فخر محسوس کرتا ہے اس کے باوجود یہ لوگ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں ۔انہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ اُن کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہو چکا ہے ۔ باشعور عوام ان کی نوسر بازیوں سے واقف ہو چکے ہیں اور انہیں مکمل طور پر مسترد کرچکے ہیں۔وزیراعلیٰ نے متحدہ قومی موومنٹ کے سندھ اسمبلی میں اُن کے خلاف جمع کی گئی قرار داد پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی پرامن جدوجہد پر انگشت آرائی کرنے والے اپنی حقیقت بھول چکے ہیں مگر عوام انہیں بھولیں گے نہیں ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف ایک پرامن تحریک ہے ۔جس کا ماضی سب کے سامنے ہے۔ہم تو پرامن طریقے سے اپنے قائد کی کال پر اُسے ملنے جارہے تھے ۔ساری قوم جا نتی ہے اور پوری دُنیا نے دیکھا کہ نہتے عوام پر ظلم کی انتہا کی گئی ۔ پرامن کارکنوں پر جان لیوا کاروائی ہوئی ۔ آج میڈیا کا دور ہے ۔ سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور سب مانتے ہیں کہ ظلم ہوا ہے ۔اب ہم انصاف کی طرف دیکھ رہے ہیں ہمیں اُمید ہے کہ نہتے عوام پر ظلم و تشدد کا حساب ہو گا اور مظلوموں کو انصاف ملے گا۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ جن لوگوں کی آنکھوں پر بد عنوانی کے پردے ہیں ۔وہ حقیقت کو دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔ اُن کی آنکھوں کے ساتھ اُن کے دل بھی مردہ ہو چکے ہیں۔ظلم کو ظلم کہنا اُن کے بس کی بات نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ متحدہ کو کوئی بھی قدم اُٹھانے سے پہلے آئینے میں اپنی شکل دیکھ لینی چاہیئے۔