ملک کا ستیاناس کرنیوالی آوازیں موجود ہیں ، احسن اقبال

کراچی (ہاٹ لائن ) وفاقی وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پانامہ پیپرزکیس میں جوبھی فیصلہ آیا قبول کرینگے ،وزیراعظم کی استعفیٰ کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی پوراکیس الزامات پرمبنی ہے جس کا تحریک انصاف کے پاس کوئی ثبوت نہیںہے۔ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام کی ضرورت ہے۔ انتشاراور میوزیکل چیئر کی سیاست کا خاتمہ ہوناچاہئے ۔کسی کے انفرادی ایجنڈا پر ملک کی معیشت کا ایجنڈا تباہ نہیں کرسکتے۔عشرت العباد کے ساتھ اچھی ہم آہنگی تھی ،مرادعلی شاھ بھی ڈائنامک وزیراعلی ہےں، سندھ کے نئے گورنرسعیدد الزمان صدیقی قابل انسان ہیں وہ اپنی زمہ داریاں احسن طریقے سے نبھائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعہ کو جناح وومن یونیورسٹی میں تقریب سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ پانامہ لیکس کے معاملہ پر وزیراعظم کا موقف سب کے سامنے ہے اس پرعدالت کا جو بھی فیصلہ ہوگا اس کا احترام کرینگے۔انھوں نے کہا کہ نوازشریف کے وژن پرعمل ہوتا تو ہم ایشین ٹائیگر بن جاتے ۔ ایسی آوازیں بھی ہمیں ملک میں سنائی دیتی ہیں کہ ملک کا ستیاناس ہوچکاہے ، ایسی باتیں کرنے والے وہی لوگ ہیں جنہوں نے ستانوی میں بھی یہ باتیں کہیں تھیں ۔ انھوں نے کہاکہ ملک میں باہمی تنازعات کے معاملات سے باہر نکل کر سب کو ملک کی ترقی کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، کراچی میں کوئی سیاسی پولورائیزیشن نہیں چاہتے اور ناہی میںکسی جماعت کے خلاف کوئی کمینٹس کر سکتا ہوں۔انھوں نے کہا کہ سندھ اور کراچی کی جیتنی جماعتیں ہیں ان کو ملکر ملک ترقی کیلئے یکساں موقع دینا چاہتے ہیں، 2018تک صرف ملکی ترقی کیلئے سوچیں ۔انھوں نے کہا کہ ملکی ترقی کیلئے معیار تعلیم کو بہترکرنا ہوگا۔ اداروں سے ربوٹ نہیں بلکہ تخلیقی صلاحتیں رکھنے والے دماغ پیداکرنے ہوں گے، ہماری خواتین ملک کامستقبل ہیں اور آنے والا وقت خواتین کاہے جبکہ مرد گھرسنبھالتے ہوئے دیکھائی دے رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ کسی بھی قوم اور ملک کی ترقی علم پرانحصار کرتی ہے ۔ یہ ضروری نہیں کے آپ صنعتی دور سے ملک کو ترقی دے پائین ترقی کیلئے علم کا حصول ضروری ہے ۔ ترقی کی رفتارعلم اور علم کی رفتارسے قوموں کی ترقی ممکن ہے۔ ہمین بھی تیزی سے بدلتی دنیاکے ساتھ چلناپڑے گا ورنہ کچھوے کی رفتار سے صدیوں پیچھے رہ جائین گے۔انھوں نے کہا کہ آج گوادربھی ملکی ترقی کا سبب بننے جارہاہے تو وہ قوتین پھر متحرک ہوگئی ہیں۔ وہ ملک جسے سینتالیس میں ٹیلی فون کی بھی سہولت میسر نہیں تھی آج اس ملک تھری جی اورفور جی استعمال ہورہی ہیں ۔ ترقی کے اقدام بتارہے ہیں کہ ہمارے اندر ترقی کی صلاحیت موجود ہے ۔ آج ہم اقتصادی صدی میں داخل ہوچکے ہیں۔سیاسی نعروں میں الجھنے کے بجائے ہمیں ترقی کے نتائج حاصل کرنے چاہیے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمین اقتصادی ایجنڈا کو ترجیح دینی پڑےگی ،بے اعتمادی اور حوصلہ شکنی کرنے والی آوازوں کو شکست دینی ہوگی ۔