حکمران غریب عوام سے ووٹ لینے کے 5 سال بعد سلام کرتے ہیں: خورشید شاہ

سکھر(ہاٹ لائن) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ حکمرانوں کو پتہ ہی نہیں کہ ان کی ذمہ داری کیا ہے وہ غریب عوام سے ووٹ لینے کے بعد 5 سال بعد ہی سلام کرتے ہیں۔
سکھر میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ہم نے کبھی یہ محسوس نہیں کیا کہ حکمرانوں کی کیا ذمہ داری ہے ہر حکومت آتی ہے اپنے نعرے لگاتی ہے حکمران غریب سےووٹ لےکر 5 سال بعد اسےسلام کرتےہیں، ملک میں تاحال سیاسی پختگی نہیں آئی یہی وجہ ہے کہ جمہوریت کے ہوتے ہوئے بھی ملک ترقی نہیں کرپارہا۔ خورشید شاہ نے کہا کہ ملک کا بنیادی مسئلہ بڑھتی ہوئی آبادی اور بے روزگاری ہے جس پر حکومت کی کوئی توجہ نہیں، نوجوان کی آواز ملک میں اب بھی نہیں سنی نہیں جارہی اور بدقسمتی سے صرف 2 فیصد نوجوانوں کو ہی حکومت کی جانب سے روزگار فراہم کیا جاسکا۔ قائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کے پاس قدرت کی عطا کردہ قیادت ہے کسی کے گملے والی پروڈکٹ نہیں اور نا ہی ہمیں کسی ڈکٹیر یا آشا پاشا نے بنایا ہے ۔ اس ملک کو ہمیشہ آمریت نے ہی نقصان پہنچا یا ۔
اپوزیشن لیڈ ر نے کہا کہ حکومت پرائیویٹ سیکٹرز کی حوصلہ افزائی میں بھی ناکام رہی جبکہ پرائیویٹ سیکٹرز 98 فیصد روزگار کے مواقع دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت بے نظیر ٹیکنیکل یونیورسٹی بنارہی ہے جو اپنے نوعیت کی پہلی درسگاہ ہوگی کیوں کہ ہمارے علم میں ہے کہ شعبہ تعلیم میں جب تک صوبائی حکومت ملوث نہیں ہوگی، ترقی ممکن نہیں۔
خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ آج کل کے دور میں ہمارا آدھا بجٹ بناؤ سنگھار میں ہی خرچ ہوجاتا ہے ناخن تراشنے کےلئے بھی بیوٹیشن کے پاس جانا پڑتا ہے جس نے بیوٹیشن کا کورس سیکھ لیا اس کی 7 پشتیں مزے کریں گی، میری بھی 2 بیویاں ہیں سوچ رہا ہوں بیوٹیشن کا کورس کرلوں، 10 ہزار روپے ماہوار بچت ہوجائے گی۔