مئیر کراچی وسیم اختر کی رہائی کا حکم جاری

کراچی(ہاٹ لائن) انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے دہشت گردوں کی سہولت کاری اور ان کے علاج معالجے سے متعلق مقدمے میں کاغذات ضمانت منظور کئے جانے کے بعد مئیر کراچی وسیم اختر کی رہائی کا حکم نامہ جاری کردیا ہے۔ کراچی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے دہشت گردوں کی سہولت کاری سے متعلق مقدمے میں کاغذات ضمانت منظور کرلیئے ہیں جس کے بعد عدالت نے ان کی رہائی کا حکم جاری کردیا ہے اور قوی امکان ہے کہ انہیں آئندہ چند گھنٹوں میں جیل سے رہا کردیا جائے گا۔ اس موقع پر وسیم اختر کی اہلیہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدالتی فیصلے پر خوش ہیں اور ان تمام لوگوں کی شکر گزار ہیں جنہوں نے وسیم اختر کی جیل سے رہائی کے لیے تعاون کیا۔ دوسری جانب ڈپٹی میئر کراچی ارشد وہرہ نے کہا کہ شہر کو وسیم اختر کی ضرورت ہے، ان کی واپسی سےمعاملات میں بہتری آئےگی، ہم مل کر شہر کی روشنیاں لوٹائیں گے، انہوں نے کہا کہ وسیم اختر رہائی کے بعد ریلی کی صورت میں مزار قائد جائیں گے، پھر ان کا پی آئی بی میں بھرپور استقبال کیا جائے گا۔ اس سے قبل کراچی کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں دہشت گردوں کی سہولت کاری اور ان کے علاج معالجے میں معاونت فراہم کرنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، عدالت نے مئیر کراچی وسیم اختر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قادر پٹیل کی ضمانت منظور کرلی۔ عدالت نے دونوں افراد کو ضمانت کے عوض 5 پانچ لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔ سماعت سے قبل عدالت کے احاطے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وسیم اختر نے کہا کہ کراچی جیل اور اڈیالہ جیل میں گزرا وقت میری زندگی کا ناقابل فراموش واقعہ ہے، جیل سے رہائی کے بعد کتاب لکھوں گا، اپنی کتاب میں جیل میں گزارے ہوئے تمام لمحات کااحاطہ کروں گا۔ اس کے علاوہ اس میں کراچی میں بننے والی جے آئی ٹی کے بارے میں تفصیلی طور پر لکھوں گا۔ میئر کراچی وسیم اختر کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر میں سہولت کاری، سانحہ 12 مئی اور دہشت گردوں کی معاونت کے 39 مقدمات درج ہیں جن میں سے 38 میں ان کی ضمانت ہو چکی تھی۔