”فلیٹس کی خریداری ثابت ہوئی توکیس فارغ ہو گا “ سماعت 30نومبر تک ملتوی

اسلام آباد (ہاٹ لائن) سپریم کورٹ نے پاناما لیکس تحقیقات کیس کی سماعت 30نومبر تک ملتوی کر دی ۔ میڈیارپورٹس کے مطابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں قائم 5رکنی لارجر بینچ وزیر اعظم اور انکے خاندان کے خلاف پاناما لیکس کیس کی سماعت کی۔ سماعت شروع ہوئی تو درخواست گزار کے وکیل طارق اسد نے موقف اختیار کیا کہ انہوں نے پاناما لیکس پر سب سے پہلے اپریل کے دوران درخواست دائر کی جس میں استدعا کی تھی کہ سب کا احتساب ہونا چاہئیے جس پر چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیے کہ ”کم سے کم میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کیس کی تحقیقات کیسے کریں گے۔ ہر پیشی پر 8،10 نئی درخوااستیں آجاتی ہیں۔ اس طرح تو کیس کا فیصلہ جلدی نہیں ہو گا جبکہ عدالت چاہتی ہے کہ کیس کا جلد فیصلہ کیا جائے۔ سماعت میں تحریک انصاف کے وکیل حامد خان نے وزیر اعظم کا خطاب پڑھ کر سنایا۔ عدالت نے حکومت کی جانب سے جمع شدہ کاغذات کے خلاف ثبوت لانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف نے پاناما لیکس کے معاملے پر 3 بار خطاب کیا، عدالت ان تقاریر کا جائزہ لے۔ تاہم عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ حکومت نے اپنے دفاع میں جو دستاویزات پیش کیے ہیں تحریک انصاف ان کا جائزہ لے اور ان کے خلاف اگر کوئی ثبوت ہے تو پیش کرے۔ حامد خان نے دلائل میں کہا کہ دبئی پراپرٹی کی فروخت اور جدہ فیکٹری کی خریداری میں 21 سال کا گیپ ہے۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ دبئی کی پراپرٹی کیسے خریدی اور کس طرح پیسہ دبئی منتقل ہوا۔حامد خان استفسار کیا کہ صنعتوں کو قومیانے کے بعد رقم کہاں سے آئی کہ شریف فیملی کی صنعتی ریاست زندہ ہوگئی۔ دستاویز میں جون 2005 میں اسٹیل مل بیچنے کی تاریخ تو ہے لیکن خریدنے کی نہیں۔ وزیر اعظم نے بیٹوں کے کاروبار کی تفصیل بھی نہیں دی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ہیں کہ روزانہ کیس سے متعلق آٹھ سے دس درخواستیں آ رہی ہیں، ہر درخواست سنتے رہے تو اصل کیس نہیں چلے گا، کیس کی ابتداءحاکم وقت سے کی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔” جب تک تفصیل سے تحقیقات نہیں ہوتیں کسی بھی نتیجے پر نہیں پہنچیں گے“، پاناما کیس میں ٹھوس شواہد پیش کرنا ہوں گے،انکوائری کمیشن تمام شواہد کا جائزہ لے سکتا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ان کی سمجھ نہیں آتا کہ معاملے کی تحقیقات کیسے کریں گے۔ جب فلیٹس خریدے گئے تو ان کی مالیت کیا تھی۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ جو دستاویزات جمع کروائی گئیں ان سے فلیٹس کی قیمتوں کا اندازہ نہیں ہوتا۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ جب تک تفصیل سے تحقیقات نہیں ہوتی کسی بھی نتیجے پر نہیں پہنچیں گے۔ ”وزیرا عظم پر الزامات کی سو فیصد تصدیق تک سخت فیصلہ نہیں دے سکتے “۔خیال کریں کہ ٹرائل کورٹ میں شک کا فائدہ ملزم کو جاتا ہے۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ جس طرح کیس جا رہا ہے لگتا ہے کبھی فیصلہ نہیں ہو گا ، فلیٹس کی خریداری ثابت نہ ہوئی تو کیس فارغ سمجھیں “ جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کی پوری زندگی جانچنے کیلئے نہیں بیٹھے ہوئے۔وزیراعظم کی پوری زندگی کی اسکروٹنی نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے خامیاں بتا دیں ، اب دستاویزی ثبوت پیش کریں ،ہم وزیر اعظم کی پوری زندگی کی اسکروٹنی نہیں کریں گے۔ جسٹس آصف سعید نے ریمارکس دیے کہ نواز شریف نے کہا کہ پاناما لیکس کی بنیاد پر جو الزامات لگائے وہ 22 سال پرانے ہیں۔ کیا معاملے کی تحقیقات ہوئیں؟ اگر تحقیقات سامنے آجائیں تو معاملہ حل ہوجائے۔ جسٹس شیخ عظمت نے ریمارکس دیئے کہ دونوں فریق کہتے ہیں کہ لندن فلیٹس آف شور کمپنیوں کے تحت خریدے گئے،دوسری طرف سے کھلم کھلا موقف آیا ہے کہ فلیٹس حسین نواز کے ہیں،وزیر اعظم کی فیملی کی جانب سے کہا گیا گلف میں گلف اسٹیل ملز بنائی۔
جسٹس شیخ عظمت نے مزید کہا کہ یہ بھی بتایا گیاکہ قرضے لئے،قطری فیملی کے ساتھ سرمایہ کاری کی ،جوائنٹ بزنس وینچر کے تحت لندن کے فلیٹس خریدے گئے، جس کی ٹرسٹی مریم نوازہے،اگر وزیراعظم کے بچوں کا موقف ثابت ہو جاتا ہے تو آپ کا دعویٰ فارغ ہوگیا حامد خان صاحب،اب یہ آپ کا کام ہے کہ وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے دستاویزات دیکھیں ، یہ بھی آپ کا کام ہے کہ ثابت کریں کے ان کا دعویٰ جھوٹا ہے۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ کیا وزیر اعظم کے بیانات پر ہم حتمی نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں۔ جسٹس کھوسہ کا کہنا تھا کہ کسی شخص کی پوری زندگی کی اسکروٹنی نہیں کر سکتے۔ جسٹس عظمت کا کہنا تھا کہ دونوں فریق کہتے ہیں کہ لندن فلیٹس آف شور کمپنیوں کے تحت خریدے گئے۔ دوسری طرف سے کھلم کھلاموقف آیا کہ فلیٹس حسین نواز کے ہیں۔ اگر وزیر اعظم کے بچوں کا موقف ثابت ہوجاتا ہے تو آپ کا دعویٰ فارغ ہوجائے گا۔ حامد خان نے کہا کہ نواز شریف نے تقریر میں کہا کہ ایک الزام بھی ثابت ہوا تو خود کو احتساب کے لیے پیش کردیں گے۔ سپریم کورٹ نے دلائل سننے کے بعد سماعت 29نومبر تک ملتوی کی جس کے بعد وکلاءنے درخواست دی کی سماعت 30نومبر کو کی جائے جس پر سپریم کورٹ نے درخواست منظور کرتے ہوئے سماعت 30نومبر تک ملتوی کر دی۔