اربوں ڈالر کے بیرونی قرضے، حکومتی عہدیداروں کی اصلیت کھل کر سامنے آ گئی.

اسلام آباد(ہاٹ لائن) وزرات خزانہ کے اہم ترین افسر کی جانب سے تین سال کے دوران 25ارب ڈالر ڈالر کے بیرونی قرضے لینے کے انکشاف نے حکومتی بیانات کی قلعی بھی کھول دی، ملکی فنانسنگ اداروں سے بھی تین ڈالر(ایک اعشاریہ تین ٹریلین) ڈالر کے قرضے لینے کا انکشاف ہوا ہے۔”ایکسپریس ٹریبون“ نے وزرات خزانہ کے ڈیبٹ آفس کے ڈائریکٹرجنرل احتشام راشد کے حوالے سے بتایا ہے کہ حکومت نے گزرے تین سال کے دوران بیرونی اور اندرونی طور پر پچپن ارب روپے کے قرضے لئے،بیرونی قرضوں کا حجم پچیس ارب ڈالر رہا جبکہ تین ارب ڈالر ملکی اداروں سے لیے گئے۔ سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے فنانس کو بریفنگ کے دوران احتشام راشد نے جون 2013ءسے جون2016ءتک لی¿ے گی¿ے ان قرضوں میں سے 11.95ارب ڈالر پرانے قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہوئے یوں گزرے تین سال میں بیرونی قرضوں میں مجموعی طور پر 13ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔وزارت خزانہ کے اہم ترین افسر کے ان انکشافات نے پاکستان پر بڑھتے ہوئے قرضوں کی صورتحال واضح کردی ہے۔ اعدادو شمار کے مطابق مالی سال 2015-16 کے دوران بیرونی قرضوں میں 5.6ارب ڈالر کااضافہ ہوا جو مالی سال 2014-15کے مقابلے میں 28.2فیصد زیادہ تھا۔اسی طرح مالی سال 2014-15 کے دوران بیرونی قرضوں کا حجم 4.42ارب ڈالر رہا جو کہ اس سے پہلے سال کے مقابلے میں تریپن فیصد زیادہ تھا۔حکومت کی جانب سے گزرے تین سال کے دوران بیرونی قرضوں پر 2.74ارب ڈالر سود بھی ادا کیا گیا۔