شپ بریکنگ یارڈ پر کام بند، ہزاروں مزدور بیروزگار

کوئٹہ (ہاٹ لائن ) شپ بریکنگ یارڈ پر کام بند، ہزاروں مزدور بیروزگارہوگئے، ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز کے چیئرمین محسن شیخانی، سینئر وائس چیئرمین محمد حسن بخشی اور سدرن ریجن کے چیئرمین محمد ایوب نے کہا کہ دنیا کے تیسرے بڑے شپ بریکنگ یارڈ پر کام بند ہونے سے 20ہزار سے زائد مزدور بے روزگار ہوگئے ہیں۔ان کے گھروں میں نوبت فاقوں تک پہنچ گئی ہے، جبکہ اس صنعت سے بالواسطہ 20لاکھ سے زائد افراد معاشی طور پر بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔آباد کے رہنماﺅں نے گڈانی شپ بریکنگ یارڈ میں المناک حادثے کے کے بعد حکومت کی جانب سے گڈانی یارڈ میں حفاظتی اقدام سخت کرنے کے بجائے دفعہ144 نافذ کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بندش سے سریے کی قیمتوں میں بھی فی ٹن15 ہزار روپے کا اضافہ ہوگیا ہے۔جس سے تعمیراتی سرگرمیاں شدید متاثر ہور ہی ہیں۔ مارکیٹ میں سریے کی قلت ہوگئی ہے، جس کے باعث بلڈرز کے لیے اپنے پروجیکٹس کو جاری رکھنا مشکل ہوگیا ہے۔انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مزدوروں اور ان کے اہل خانہ کو فاقوں سے بچانے اور تعمیراتی سرگرمیاں بحال کرنے کے لیے گڈانی شپ یارڈ پر نافذ دفعہ 144 کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔