تحقیقاتی ٹیم کی کیڈٹ کالج میں تشدد کا نشانہ بننے والے متاثرہ بچے کے والد سے ملاقات

کراچی(ہاٹ لائن) کیڈٹ کالج میں استاد کے مبینہ تشدد کا نشانہ بننے والے متاثرہ طالب علم محمد احمد کے والد سے تحقیقاتی ٹیم نے ملاقات کی جس میں انہوں نے بچے پر تشدد کے حوالے معلومات حاصل کیں جب کہ میڈیکل بورڈ کل متاثرہ طالب علم کی صحت اور رپورٹس کا معائنہ کرے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ہدایت کے بعد لاڑکانہ کے کیڈٹ کالج میں استاد کی جانب سے مبینہ تشدد کا نشانہ بننے والے طالب علم محمد احمد کے والد سے تحقیقاتی ٹیم نے ملاقات کی جس میں ٹیم نے بچے پر تشدد کے حوالے سے معلومات حاصل کیں، بچے کے والد نےتحقیقاتی ٹیم سے ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً ایک گھنٹے تک تحقیقاتی ٹیم کے 4 ارکان نے گھر پر ملاقات کی اور ان کے بچے پر تشدد کے حوالے سے سوالات بھی کیے۔ دوسری جانب ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ محمد احمد کا علاج امریکا میں ہوسکتا ہے جب کہ متاثرہ طالب علم کے والد غلام احمد کا کہنا تھا کہ ان کے پاس اتنے پیسے نہیں کہ وہ اپنے بیٹے کا امریکا میں علاج کراسکیں، انہوں نے اپنی تمام جمع پونچی احمد کے علاج پر لگا دی جب کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سیکرٹری ہیلتھ کو ہدایت کی ہے کہ متاثرہ طالب علم کا جہاں بھی ممکن ہو علاج کرایا جائے جس کے تمام اخراجات حکومت سندھ برداشت کرے گی۔ بعد ازاں اعلیٰ حکام کی ٹیم نے متاثرہ طالب علم کے والد سے ملاقات کی جس میں انہوں نے بچے پر تشدد کے حوالے سے معلومات اور علاج کے بارے میں بھی دریافت کیا۔ بچے کے والد کا محمد احمد کا میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آج صوبائی محکمہ داخلہ کی ٹیم نے بھی تحقیقات کی اور اعلیٰ حکام کی ٹیم نے دو گھنٹے سے زائد بات چیت کی تاہم معاملے کی تحقیقات میں وقت ضائع نہ کیا جائے تحقیقات ہوتی رہے گی پہلے میرے بچے کا علاج کرایا جائے، پوری قوم سے اپیل ہے کہ میری مدد کی جائے۔ واضح رہے کیڈٹ کالج لاڑکانہ کے 14 سالہ طالب علم محمد احمد کو استاد نے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا جس کے باعث طالب علم کی گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی اور وہ ذہنی صلاحیت سے بھی محروم ہوگیا۔