چیف جسٹس نجی میڈیکل کالجز میں مہنگی فیسوں پر برہم، اکاؤنٹس کی تفصیلات طلب

چھوٹے سے کوٹھے اور گیرج میں میڈیکل کالجز چلائے جا رہے ہیں، چیف جسٹس ثاقب نثار۔

لاہور: چیف جسٹس پاکستان نے نجی میڈیکل کالجز میں مہنگی فیسوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مالکان کے اکاؤنٹس کی تفصیلات طلب کرلیں۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں نجی میڈیکل کالجز کی زائد فیسوں کے خلاف چیف جسٹس کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے نجی میڈیکل کالجز اور اسپتال کی جانب سے زائد فیسیں وصول کرنے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ نجی میڈیکل کالجز کے مالکان کے بنک اکاؤنٹس کی تفصیلات فراہم کی جائیں، ایک چھوٹے سے کوٹھے اور گیرج میں میڈیکل کالجز چلائے جا رہے ہیں، بتائے جائے میڈیکل کالج کا اسٹرکچر کیا ہے، تمام نجی کالجز کی تفصیلات فراہم کی جائیں، میو اسپتال میں دورہ کیا تو تنقید کی گئی لیکن جہاں میرے بچوں کی صحت کا مسئلہ ہوا وہاں خود جاؤں گا۔

چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ پنجاب حکومت کے صاف پانی منصوبے میں 3.50 کروڑ کی گاڑی خریدی گئی، عدالت کو آگاہ کیا جائے کہ یہ کیسی مہنگی گاڑی خریدی گئی، ذاتی نمائش کے لیے نہیں بلکے جذبے کے تحت کیس کی سماعت کر رہے ہیں، اس عوامی مفاد کے کیس کی سماعت ہفتے اور اتوار کو بھی ہوگی، صاف پانی کیس بھی اسی کیس کے ساتھ سنا جائے گا، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے قواعد و ضوابط پر عمل درآمد کا حلفیہ بیان دیا جائے۔