syed-khurshid-ahmed-shah

سعد رفیق کے بیان میں کچھ نہیں، فوج کا اتنا بڑا رد عمل نہیں آنا چاہیے تھا، خورشید شاہ

لاہور: قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا کہنا ہےکہ سعد رفیق کے بیان میں ایسی کوئی بات نظر نہیں آئی جس پر آئی ایس پی آر کا اتنا بڑا رد عمل آیا لہٰذا یہ رد عمل اتنی جلدی نہیں آنا چاہیے تھا۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ طاہرالقادری سے ملاقات کوئی نئی بات نہیں، اس سے پہلے بھی ملاقات ہوئی ہے، جب ماڈل ٹاؤن کا قتل عام ہوا تو بھی ہم آئے، جنازوں اور احتجاج میں بھی شریک ہوئے تھے، ماڈل ٹاؤن والوں کے حق و انصاف کے لیے کھڑے ہوئے تھے اور آج بھی اس پر قائم ہیں۔

’فاٹا انضمام کے حق میں ہیں‘
انہوں نے کہا کہ فاٹا انضمام کے حق میں ہیں، اس معاملے پر پہلے دن سے پوزیشن لیے ہوئے ہیں، یہ ہمارے منشور کا حصہ ہے کہ فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم ہونا چاہیے، اگر ہمار پاس دو تہائی اکثریت ہوتی تو ہم یہ کام کر جاتے۔

اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ فاٹا معاملے پر حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں، حکومت کسی مجبوری کی وجہ سے اس معاملے کو روکے ہوئے ہے، سب کو پتا ہے اس میں کیا مسئلہ ہے، مولانا فضل الرحمان کا واضح مؤقف ہے، اور بھی کچھ جماعتیں ہیں جن کا نام نہیں لینا چاہتا لیکن یہ تھوڑے دن کا ہی مسئلہ ہے۔

ہم لڑائی اور مارا ماری نہیں چاہتے، قائد حزب اختلاف
خورشید شاہ نے کہا کہ ہماری سیاست دھرنوں کی نہیں، جمہوریت کی ہے، چاہتے ہیں ملک میں جمہوریت چلے اور الیکشن وقت پر ہوں جب کہ ہم کسی سیاسی جماعت سے دوریاں نہیں چاہتے، ملک میں سیاست، سیاسی عمل، جمہوریت اور پارلیمان چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم لڑائی، مارا ماری نہیں چاہتے، پیپلزپارٹی سمجھتی ہے کہ ملک میں سیاست کیسے ہونی چاہیے، اس میں انتقام اور دشمنی نہیں ہونی چاہیے۔

آئی ایس پی آر کے بیان پر اپوزیشن لیڈر کا رد عمل
سعد رفیق کے بیان پر ڈی جی آئی ایس پی آر کے رد عمل پر اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ سعد رفیق کا بیان تفصیل سے پڑھا اس میں ایسی کوئی بات نظر نہیں آئی جس پر آئی ایس پی آر کا رد عمل آیا، یہ نہیں آنا چاہیے تھا، وہ ایک ادارہ ہے ان کے ایک ایک لفظ کی اہمیت ہے، اس لیے اتنی جلدی ردعمل نہیں آنا چاہیے تھا۔

خیال رہے کہ 24 دسمبر کو سعد رفیق نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ جمہوری تسلسل کی حمایت کرتے ہیں، اس بات کی تائید کی جانی چاہیے اور اس کی تائید صرف ہمیں نہیں بلکہ انہیں بھی کرنی چاہیے جن پر ان کا حکم لازم ہے، انہیں بھی اس حکم کی اطاعت کرنی چاہیے۔

سید خورشید شاہ نے مزید کہا کہ دھرنے دینا یا احتجاج کرنا آئینی حق ہے لیکن یہ پر امن ہونا چاہیے، احتجاج ایوانوں تک پہنچنا چاہیے مگر اس کی کوئی حد ہو جس سے عوام پریشان نہ ہوں، حالیہ دھرنے سے خطرناک پیغام گیا، دنیا نے اس پیغام کو ہماری طرف واپس بھیجا کہ ہم کیا سوچتے ہیں، لوگوں نے پاکستان کو خطرناک ملک کہا ، ہم اس قسم کے دھرنوں کے خلاف ہیں۔

’سعودی عرب کا احترام ہے لیکن ہمیں اپنے فیصلے خود کرنے چاہئیں‘
(ن) لیگی قیادت کے سعودی عرب جانے سے متعلق سوال پر خورشید شاہ نے کہا کہ قوم دیکھ رہی ہے یہ سعودی عرب کیوں گئے اور کس لیے جارہے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے، اب اگر اس کے بعد کچھ ہوتا ہے تو معاملہ ٹھیک ہونے کی طرف جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا بہت احترام ہے مگر پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے، اس کی اپنی پالیسی اور قانون ہونا چاہیے، ہمارا اپنا آئین ہے، ہمیں اپنے فیصلے خود کرنے چاہئیں، دوسرے کے دروازے کو کھٹکھٹانا بڑا تکلیف دے رہا ہے۔

خورشید شاہ نے کہا کہ اس بار عدالت نے سزائیں دیں اور نااہلی ہوئی، آج جو ہورہا ہے وہ معافی تلافی کی طرف نظر آتا ہے، اس این آر اور ماضی کے این آر او میں بہت بڑا فرق ہے، اس ملک میں جمہوریت آئی، نوازشریف جلا وطن تھے واپس آئے اور فوجی جنرل نے وردی اتاری، اس بار سزا، نااہلی اور کرپشن کے کیسز ہے، یہ سب لاڈلوں کا مسئلہ ہےجب کہ اس قسم کی باتیں ہوگئیں تو بڑے بڑے تالے اداروں کو لگانے پڑیں گے۔

عمران خان اور نوازشریف لاڈلے ہیں، سید خورشید شاہ
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ خواہش ہے حکومت مدت پوری کرے اور اسے کرنی بھی چاہیے، ہمارے پاس آئین ہے، اگر حکومت مدت پوری نہیں کرتی تو آئین کے ساتھ زیادتی ہوگی۔

ایک سوال کے جواب میں خورشید شاہ نے کہا کہ عمران خان اور نوازشریف لاڈلے ہیں، کھیلنے کو مانگے چاند۔

اپوزیشن لیڈر نے مطالبہ کیا کہ اس بار ملک میں انتخابات کے ساتھ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی ایک ہی روز انتخابات کرائے جائیں۔