ایف بی آر بے نامی ٹرانزیکشن ایکٹ کے تحت اختیارات کا خواہاں


ایف بی آر بے نامی قوانین کے حوالے سے بینچوں کی تشکیل اور دیگر متعلقہ امور کا وہ خود فیصلہ کرسکے گا۔

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے بے نامی ٹرانزیکشن ایکٹ کے نفاذ کے معاملے پر وزیر مملکت برائے خزانہ کو اختیارات دینے سے انکار کر دیا ہے تاکہ پارلیمنٹ اور ایگزیکٹیوز کے اختیارات انفرادی طور پر بعض افراد کو دیے جانے کی مشق کو روکا جاسکے۔

ایف بی آر ایکٹ کے ذریعے اختیارات چاہتا ہے تاہم رواں سال فروری میں منظور شدہ اس قانون کو ابھی نافذ نہیں کیا جاسکا جس کی وجہ قوانین کی عدم موجودگی بتائی جاتی ہے جس سے محکمے (ایف بی آر) کی غیر سنجیدگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

ایف بی آر کے ممبر ان لینڈ ریونیو پالیسی ڈاکٹر محمد اقبال نے گزشتہ روز قائمہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ وفاقی حکومت کے اختیارات کسی ادارے کو نہیں دیے جا سکتے۔ ایف بی آر نے وفاقی کابینہ کو تجویز پیش کی ہے کہ بے نامی قوانین کے تحت ادارے کو یہ اختیارات دیے جائیں۔
ذرائع کے مطابق ایف بی آر وفاقی کابینہ سے یہ اختیارات چاہتا ہے تاکہ بے نامی قوانین کے حوالے سے بینچوں کی تشکیل اور دیگر متعلقہ امور کا وہ خود فیصلہ کرسکے۔ فنانس بل 2017 کے تحت اس وقت کے وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے مالیاتی امور چلانے کے لیے وفاقی کابینہ اور پارلیمنٹ کے اختیارات حاصل کیے ہوئے تھے، اسی حکمت عملی کے تحت ایف بی آر بھی یہ اختیارات لینے کا خواہاں ہے۔