راولپنڈی میں ایک شخص نے اہلخانہ کو یرغمال بنالیا

راولپنڈی کے علاقے مورگاہ میں ایک شخص نے گذشتہ رات سے اہلخانہ کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

پولیس اور اہل علاقہ کے مطابق مذکورہ شخص ذہنی مریض ہے، جس کی عمر تقریباً 30 سال ہے۔
پولیس کے مطابق یرغمال افراد کی تعداد تقریباً 20 بتائی جارہی ہے۔
پولیس کے مطابق ایک بچہ گھر کی نچلی منزل سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوا، جسے محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا۔

نمائندہ ہاٹ لائن نیوز کے مطابق یرغمال بنانے والے شخص کی مبینہ فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار اور ایک 50 سالہ شخص زخمی ہوگیا، جسے تشویش ناک حالت میں اسپتال منتقل کردیا گیا۔

پولیس کی یرغمالیوں کو چھڑانے کی کوششیں جاری ہیں، دوسری جانب یرغمال بنانے والے شخص کی جانب سے اب تک کسی قسم کے مطالبات سامنے نہیں آسکے۔

نومبر 2016 میں بھی حیدرآباد میں اسی قسم کا ایک واقعہ پیش آیا تھا جب ایک ڈاکٹر نے اپنی والدہ اور بچوں کو یرغمال بنالیا تھا، اس دوران وہ فائرنگ بھی کرتا رہا، جسے بعدازاں پولیس نے اپنی حراست میں لے لیا تھا۔

مذکورہ ڈاکٹر کا موقف تھا کہ اس کی جائیداد پر ایک وڈیرے نے غیرقانونی قبضہ کر رکھا تھا، اس پر حملہ کیا گیا جس کے جواب میں فائرنگ کی۔

دوسری جانب اہل علاقہ کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر ابراہیم کافی عرصے سے بیروزگار تھا جبکہ ان کی بیوی بھی انہیں چھوڑ کر جا چکی تھیں