راولپنڈی میں اہلخانہ کو یرغمال بنانے والا شخص زخمی حالت میں گرفتار

راولپنڈی کے علاقے مورگاہ میں گذشتہ رات سے اہلخانہ کو یرغمال بنائے رکھنے والے شخص کو پولیس نے زخمی حالت میں گرفتار کرلیا۔

سی پی او راولپنڈی اسرار عباسی نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ اہلخانہ کو یرغمال بنانے والے شخص کو زخمی حالت میں گرفتار کرکے اسپتال منتقل کردیا گیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ‘عبدالرحیم جس طریقے سے ردعمل دے رہا تھا اور فائرنگ کر رہا تھا، کوئی عام شخص ایسے نہیں کرسکتا’۔

گذشتہ رات عبدالرحیم نامی ایک شخص نے راولپنڈی کے علاقے مورگاہ میں واقع ایک گھر میں اپنے اہلخانہ کو یرغمال بنا لیا تھا، مذکورہ گھر میں 3 بھائیوں کی فیملی رہتی ہے اور یرغمال افراد کی تعداد تقریباً 20 بتائی گئی تھی۔

پولیس اور اہل علاقہ کے مطابق عبدالرحیم نشے کا عادی اور ذہنی مریض ہے، جس کی عمر تقریباً 30 سال ہے اور اس کے پاس اسلحہ بھی موجود تھا۔

پولیس کے مطابق ایک بچہ گھر کی نچلی منزل سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوا، جسے محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا۔

دوسری جانب یرغمال بنانے والے شخص کی مبینہ فائرنگ سے اس کے 50 سالہ سسر اور ایک 36 سالہ پولیس اہلکار زخمی بھی ہوا، جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ شخص اس سے قبل خودکشی کی بھی کوشش کرچکا ہے جبکہ گذشتہ رات بھی اس نے اہلخانہ کو خودکشی کی دھمکی دی تھی۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ عبدالرحیم جوئے میں اپنی کنسٹرکشن مشینری گنوا چکا ہے اور اب رقم کے مطالبے کے لیے اس سے سسرالیوں کو یرغمال بنایا تھا۔

پولیس نے یرغمالیوں کو چھڑانے اور صورتحال پر قابو پانے کے لیے ایلیٹ فورس کو بھی طلب کیا تھا۔

نومبر 2016 میں بھی حیدرآباد میں اسی قسم کا ایک واقعہ پیش آیا تھا جب ایک ڈاکٹر نے اپنی والدہ اور بچوں کو یرغمال بنالیا تھا، اس دوران وہ فائرنگ بھی کرتا رہا، جسے بعدازاں پولیس نے اپنی حراست میں لے لیا تھا۔

مذکورہ ڈاکٹر کا موقف تھا کہ اس کی جائیداد پر ایک وڈیرے نے غیرقانونی قبضہ کر رکھا تھا، اس پر حملہ کیا گیا جس کے جواب میں فائرنگ کی۔

دوسری جانب اہل علاقہ کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر ابراہیم کافی عرصے سے بیروزگار تھا جبکہ ان کی بیوی بھی انہیں چھوڑ کر جا چکی تھیں۔