رانا ثناء اللہ کی طاہر القادری کے روبرو بے گناہی ثابت کرنے کی پیش کش

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ہم اپنی بے گناہی انکوائری میں ثابت کر چکے ہیں۔

فیصل آباد: وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے ماڈل ٹاؤن سانحے کا معاملہ حل کرنے کے لیے پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری کے روبرو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی پیش کش کر دی۔

فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ طاہرالقادری قرآن پر بیان دیں، ہم بھی بے گناہی ثابت کرنے کو تیار ہیں، ماڈل ٹاون ایک واقعہ تھا جس میں نہ کوئی پلاننگ شامل تھی نہ کسی نے گولی چلانے کا حکم دیا۔

اس موقع پر انہوں نے جاں بحق ہونے والوں کی دیت کے لیے خرم نواز گنڈاپور سے مذاکرات کی بھی تصدیق کر دی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم سے پہلی بار استعفیٰ نہیں مانگا جارہا، ساڑھے چار سال سےمانگ رہے ہیں اور عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

وزیر قانون پنجاب نے کہا کہ دھرنے، لانگ مارچ اور ریلیوں کا مقصد پاکستان کی ترقی کو روکنا تھا، تمام سازشوں کے باوجود ملک سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہوا، قوم ان لوگوں کو پہچان چکی ہے، الیکشن میں سازشی قوتوں کو ووٹ سے شکست دیں گے، نواز شریف کی قیادت میں قوم متحد ہے۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ طاہرالقادری، آصف زرداری اور عمران خان ایک دوسرے کو برا بھلا کہہ چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خرم نواز گنڈا پور مجھ سے ملنے ماڈل ٹاؤن بھی تشریف لائے، ان کے ساتھ معاملہ طے نہیں ہوا، چاہتے ہیں مقتولوں کےورثاء کو معاوضہ دیا جائے، معاوضے کے معاملات وزیراعلیٰ شہباز شریف کی منظوری سے طے کرنے کی کوشش کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ سیاست کیلئے پیرصاحب اور دیگر مشائخ کو استعمال کررہے ہیں، پیرحمیدالدین سیالوی کا بہت عزت اور احترام ہے۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اس سانحہ کو سیاسی مہم جوئی کا حصہ نہ بنایا جائے، غریبوں کی لاشوں پرسیاست نہ کی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ میرا استعفی میرے ہاتھ میں نہیں، پارٹی نے فیصلہ کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2018 میں عمران خان سیاست سےفارغ ہوجائیں گے۔