سپریم کورٹ نے انتخابی اصلاحات ایکٹ کیخلاف درخواستیں قابل سماعت قرار دیدیں

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے انتخابی اصلاحات ایکٹ کے خلاف درخواستیں قابل سماعت قرار دے دیں۔

مسلم لیگ (ن) نے چند ماہ قبل پارلیمنٹ سے انتخابی اصلاحات کا بل منظور کرایا جس کے تحت عدالت سے نااہل شخص کو پارٹی سربراہ بنانے کے لیے ترمیم کی گئی تھی اور سینیٹ میں بل ایک ووٹ کے فرق سے منظور ہوا جس کے بعد نوازشریف مسلم لیگ (ن) کے باضابطہ صدر منتخب ہوئے۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سمیت دیگر 13 فریقین کی جانب سے انتخابی اصلاحات ایکٹ کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کررہا ہے۔

ان درخواستوں میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی پاناما کیس میں نااہلی کے بعد پارٹی صدارت سنبھالنے کی اہلیت کو چیلنج کیا گیا ہے۔

دوران سماعت نیشنل پارٹی کی جانب سے انتخابی اصلاحات ایکٹ کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پارلیمنٹ قانون سازی کی سپریم باڈی ہے اور آپ کہتے ہیں پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قانون کو کالعدم قرار دے دیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آج تک سپریم کورٹ نے کتنے قوانین کو کالعدم قرار دیا، قوانین کالعدم قرار دینے والے عدالتی فیصلوں کی نظیر بتائیں جس پر ایڈووکیٹ حشمت حبیب نے کہا کہ عدالتی نظیریں پیش کرنے کے لئے وقت دیا جائے۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ رات شہر سے باہر تھا اس لئے تیاری کے لئے وقت دیا جائے جس پر جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ عدالت کو آسان نہ لیں، کیس مقرر تھا آپ کو تیاری کر کے آنا چاہیے تھا، بغیر تیاری کے کیس میں دلائل دینا بڑے وکیل کے شایان شان نہیں، ہم نے سختی کے ساتھ قانون پر عمل کرنا ہے اور مقدمے کو آج ہی دوبارہ اس کے نمبر پر سنیں گے۔

دوران سماعت بیرسٹر فروغ نسیم نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ سینیٹ نے اس قانون کے خلاف 52ووٹ سے قرارداد منظور کی جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایسا ہے تو پارلیمنٹ خود اس قانون کو کالعدم قرار نہیں دے دیتی؟

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ فروغ نسیم صاحب اس قانون کا تاریخی پس منظر بتائیں؟ 2017میں یہ قانون تمام جماعتوں کے ووٹوں سے پاس ہوا۔

بیرسٹر فروغ نسیم کے دلائل کے بعد چیف جسٹس نے مختصر حکم لکھواتے ہوئے درخواستیں قابل سماعت قرار دے کر سماعت کے لیے منظور کرلیں۔

عدالت نے مسلم لیگ (ن) کے صدر نوازشریف سمیت دیگر فریقین کو 23 جنوری کے لیے نوٹس جاری کردیئے۔