سندھ میں ہر 5 سال بعد اساتذہ کا امتحان لینے کا فیصلہ

کراچی: سندھ حکومت نے صوبے میں ہر 5 سال بعد اساتذہ کا امتحان لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

سندھ میں این ٹی ایس پاس کنٹریکٹ اساتذہ ملازمت مستقل کرنے کے لیے سراپا احتجاج ہیں اور اس کے لیے انہوں نے دو بار احتجاجی مظاہرہ بھی کیا جس پر پولیس نے دھاوا بول دیا۔

ہاٹ لائن نیوز کےمطابق وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت تعلیمی اصلاحات کے حوالے سے اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبے میں ہر 5 سال بعد اساتذہ کا امتحان لیا جائے گا، جو اساتذہ اس میں پاس ہوں گے انہیں مراعات دی جائیں گے اور ناکام اساتذہ کو ملازمتوں سے فارغ کردیا جائے گا۔

اجلاس میں میرٹ پر اساتذہ کی کنٹریکٹ بھرتیوں کے لیے تھرڈ پارٹی سے بھرتیاں کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس سے خطاب میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ اساتذہ کی تربیت کے لیے آئندہ 4 سال میں اچھی اکیڈمی قائم کی جائے گی۔

وزیر تعلیم سندھ کا اپنی حکومت میں اساتذہ کی 22 ہزار اضافی بھرتیوں کا انکشاف

انہوں نے کہا کہ اساتذہ کا معیار ہونا چاہیے تاکہ وہ بچوں کو اچھی تعلیم و تربیت فراہم کریں، تعلیمی نظام بہتر ہونا چاہیے، سندھ کےبچے تعلیم یافتہ ہوں جس کے لیے اساتذہ کو تربیت دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ اساتذہ کی بھرتی پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ سندھ کے وزیر تعلیم جام مہتاب ڈہر نے اعتراف کیا تھا کہ صوبے میں اساتذہ کی گنجائش سے زائد 22 ہزار اضافی بھرتیاں کی گئیں اور جن مضامین کے لیے انہیں بھرتی کیا گیا انہیں اس کی ہجے بھی نہیں آتی۔