سال 2017، عدالتوں نے 15 ہزار 192 کرمنل مقدمات میں سزائیں سنائیں

کراچی کے پانچوں اضلاع کی ماتحت عدالتوں نے23 ہزار327 فوجداری مقدمات کے فیصلے سنائے، رپورٹ عدالت عالیہ کو ارسال۔

کراچی: سندھ بھر کی ماتحت عدالتوں 2017 کے دوران دو لاکھ 65 ہزار 808مقدمات نپٹائے جس میں کرمنل فوجداری،سول، فیملی دیوانی سمیت دیگر متفرق مقدمات شامل ہیں۔

سندھ بھر کے27 اضلاع کی ماتحت عدالتوں نے2017 کی کارکردگی کی رپورٹ عدالت عالیہ کو ارسال کردی ہے، رپورٹ کے مطابق 2018 کے آغاز میں سندھ بھر کی ماتحت عدالتوںکو93 ہزار403 زیرالتوا مقدمات کا سامنا ہے،2017 کے دوران سندھ کے 27 اضلاع کی ماتحت عدالتوں میں 2لاکھ 40 ہزار 538 مقدمات داخل ہوئے جبکہ 2017 کے آغاز میں ایک لاکھ 18 ہزار 676 التوا کے شکار مقدمات موجود تھے۔

2017 کے دوران سندھ بھر کی ماتحت عدالتوں نے دو لاکھ 65 ہزار 808مقدمات نپٹائے جس میں کرمنل فوجداری،سول، فیملی دیوانی سمیت دیگر متفرق مقدمات شامل ہیں2017 کے دوران سندھ کی ماتحت عدالتوں نے کرمنل فوجداری کے 56 ہزار 374 مقدمات کے فیصلے سنائے،2017 کے دوران سندھ حکومت41 ہزار 182 مقدمات میں جرم ثابت کرنے میں ناکام رہی۔
2017 میں سندھ کی ماتحت عدالتوں نے 15 ہزار 192 کرمنل مقدمات میں مجرموں کو سزائیں سنائیں2017 کے دوران سندھ کی ماتحت عدالتوں میں مجرموں کو سزائیں سنانے کا تناسب 34 فیصدرہا اور 66 فیصد ملزم عدالتوں سے بری ہوگئے2018 کے آغاز میں سندھ بھر کی ماتحت عدالتوں کو 91 ہزار 807 زیرالتوا مقدمات کا سامنا ہے2017 کے آغاز میں ایک لاکھ 18 ہزار 676 زیرالتوا مقدمات کا سامنا تھا۔

رپورٹ کے مطابق2017 کے دوران کراچی کے پانچوں اضلاع کی ماتحت عدالتوں میں79ہزار 88 نئے مقدمات داخل ہوئے2017 کے دوران کراچی کے پانچوں اضلاع کی ماتحت عدالتوں نے کرمنل فوجداری کے 23 ہزار 327 مقدمات کے فیصلے سنائے 2017 کے دوران سرکار 13 ہزار 446 کرمنل مقدمات میں ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی۔

2017 کے دوران کراچی کے پانچوں اضلاع کی ماتحت عدالتوں نے 9 ہزار 681 کرمنل مقدمات میں مجرموں کو سزائیں سنائی2017 میں کراچی کے پانچوں اضلاع کی ماتحت عدالتوں میں سنائی گئی سزاؤں کا تناسب41 فیصد جبکہ ملزمان کی بریت کا تناسب 59 فیصد رہا2018 کے آغاز میں کراچی کے پانچوں اضلاع کی ماتحت عدالتوں کو 52 ہزار351 زیرالتوا مقدمات کا سامنا ہے2017 کے آغاز میں کراچی کے پانچوں اضلاع کی ماتحت عدالتوں کو 65 ہزار 70 زیرالتوا مقدمات کا سامنا تھا2017 کے ماہ دسمبر کے آخری عشرے میں سزا یافتہ مجرم شاہ رخ جتوئی اور اس کے دیگر ساتھی عدالت سے رہا ہوگئے