جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کو سرکاری تحویل میں لینے کا فیصلہ


لاہور: حکومت نے حافظ سعید کی جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کو سرکاری تحویل میں لینے کا فیصلہ کرلیا۔

ذرائع کے مطابق 18 دسمبر کو وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے قومی سلامتی کے اجلاس میں اس حوالے سے فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس میں تینوں سروسز چیف، وزارت داخلہ اور خارجہ کےسیکریٹری بھی شریک تھے اور انہوں نے حافظ سعید پر عالمی پابندیوں اور پاکستان پر لگنے والے الزامات پر بریفنگ دی۔

ذرائع کا کہنا ہےکہ حکومت نے اس اجلاس میں فیصلہ کیا کہ پہلے مرحلے میں جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیرشن کی ایمبولینس سروس اور فنڈنگ کے ذرائع معلوم کیے جائیں گے، ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک دونوں اداروں کی فنڈنگ سمیت اثاثوں کے ذرائع کے ریکارڈ بھی ترتیب دیں گے۔

ذرائع نے بتایا کہ بعد میں جماعت الدعوۃ کے تمام منصوبے حکومت پنجاب چلائے گی اور مرید کےمرکز بھی حکومت پنجاب اپنے کنٹرول میں لے گی جب کہ اس مرکز کا نام بھی تبدیل کردی جائے گا۔

ذرائع کے مطابق ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ اس حوالے سے تمام عمل مکمل کرکے رپورٹ وزارت داخلہ کو دے گا جب کہ اس ضمن میں انٹیلی بیورو کو بھی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ اس فیصلے پر جلد عملدرآمد کے لیے متعلقہ محکموں کو خطوط بھی ارسال کردیئے گئے ہیں۔

دوسری جانب غیر ملکی خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق جب اس حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پاکستان میں تمام کالعدم تنظیموں کی فنڈنگ بند کرنے کا کہا ہے۔

رائٹرز کے مطابق احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان امریکا کے دباؤ میں کوئی کارروائی نہیں کررہا اور ہم کسی کو خوش نہیں کررہے، ہم ایک ذمہ دار قوم کے طور پر کام کررہے ہیں۔

رائٹرز کا کہنا ہےکہ جب جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے ترجمان سے اس حوالے سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے کسی بھی سرکاری نوٹی فکیشن ملنے تک اس پر بات کرنے سے انکار کردیا۔

واضح رہے کہ بھارت اور امریکا حافظ سعید کو 2008 میں ہونے والے ممبئی حملے کا ماسٹر مائنڈ قرار دیتا ہے جب کہ حافظ سعید کی جانب سے اسے مسترد کیا جاچکا ہے۔