سوچ سمجھ کر جماعت الدعوۃ کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں. وزیر دفاع خرم دستگیر خان

وزیردفاع کے مطابق پاکستان میں دہشت گردوں کی خفیہ پناہ گاہیں نہیں ہیں

پاکستان کے وزیر دفاع خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ اگرچہ بین الاقوامی سطح پر کئی تنظیموں پر پابندی عائد کی گئی ہے لیکن اس حوالے سے پاکستان سوچ سمجھ کر اقدامات کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ایسا نہیں ہے کہ ہم بندوقیں لے کر اپنے ہی ملک پر چڑھ دوڑیں گے بلکہ وہ وقت گزر گیا، اب ہم نپے تلے اور سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ جماعت الدعوۃ کے خلاف حالیہ کارروائی کا امریکہ سے تعلق نہیں بلکہ یہ آپریشن ردالفساد کا حصہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم نے پاکستان کی سرزمین کو ان سے پاک کرنا ہے، جماعت الدعوۃ کے خلاف کارروائی سوچ سمجھ کر کی جا رہی ہے تاکہ پاکستان کا مستقبل محفوظ ہو سکے اور آئندہ دہشت گرد کسی سکول میں بچوں کو گولیاں نہ مار سکیں۔‘

امریکہ کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر دفاع خرم دستگیر خان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹویٹ کو امریکی حکام کی جانب سے حالیہ بیانات کے بعد ’نکتہ انتہا’ قراد دیا اور کہا کہ حالیہ چند ماہ میں امریکی قیادت سے مثبت گفتگو ہوتی رہی لیکن ’عوامی سطح پر منفی تاثر دیا جاتا ہے۔‘

وزیر دفاع نے کہا کہ موجودہ پاکستان ضربِ عضب کے بعد کا پاکستان ہے، جو شہریوں، جوانوں اور افسران کی قربانیوں اور کامیاب آپریشنز کے بعد حاصل ہوا ہے۔ ’امریکہ ہم سے انسدادِ دہشتگردی سیکھنے کی بجائے دشنام طرازی کر رہا ہے۔‘

وزیر دفاع خرم دستگیر خان نے دونوں ملکوں کے تعلقات کی خرابی میں انڈیا کے ’بلاواسطہ کردار‘ کی وجہ خطے میں مضبوط ہوتے چین اور پاکستان کی چین سے قربت کو قرار دیا اور کہا کہ ’انڈیا پاکستان کے خلاف افغانستان کی زمین بھی استعمال کر رہا ہے۔‘

امریکہ سے تعلق دوستی اور دشمنی سے آگے
امریکہ وزیر دفاع کے مطابق امریکہ اور پاکستان کے درمیان اعلیٰ ترین سطح پر بات چیت ہوتی رہی ہے لیکن دونوں ملکوں کے درمیان سٹریٹیجک ڈائیلاگ اب بھی معطل ہے۔

وزیر دفاع خرم دستگیر خان نے کہا کہ تعاون کی زبان میں بات ہونا چاہیے، ’منفی اور دھمکی کی زبان استعمال کی گئی تو پاکستان کے عوام، منتخب حکومت اور افواج کو سخت ترین تحفظات ہیں۔‘

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ہفتے کے آغاز میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پاکستان پر الزام عائد کیا تھا کہ گذشتہ ڈیڑھ دہائی میں اربوں ڈالر کی امداد لینے کے باوجود پاکستان نے امریکہ کو سوائے جھوٹ اور دھوکے کے کچھ نہیں دیا ہے۔
وزیر دفاع خرم دستگیر نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کا تعلق اب ’دوستی اور دشمنی کے پیرائے سے نکل چکا ہے‘، ان کے مطابق پاکستان نے مؤدب لیکن کُھل کر اور بے لاگ انداز میں امریکہ کو بتا دیا ہے کہ وہ پاکستان پر افغانستان میں ناکامی کے بعد پاکستان پر الزام تراشی نہ کرے۔

وزیر دفاع نے امریکہ کی جانب سے پاکستان کو حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کی ڈیڈ لائن دیے جانے سے متعلق خبروں کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ پاکستان ایک ’خود مختار، جوہری طاقت ہے، جسے اس طرح کی ڈیڈ لائنز نہیں دی جا سکتیں۔‘

وزیر دفاع خرم دستگیر خان نے امریکی نائب صدر کے پاکستان کو نوٹس دیے جانے سے متعلق بیان پر کہا کہ تقاریر اور ٹویٹس ’اُن باتوں سے متصادم ہیں جو امریکی اعلیٰ عہدیداروں نے پاکستان سے کی ہیں، وہ تو ہم سے سیکھنے اور تعاون کی بات کرتے ہیں۔‘

وزیر دفاع نے بتایا کہ پاکستان کی آدھی فضائی حدود امریکہ کے لیے مکمل طور پر کھلی ہے، جبکہ زمینی راستے بھی دیے گئے ہیں۔ ’ان کے بغیر امریکہ کی افغانستان میں رسائی نہایت مشکل ہو گی۔ اس لیے امریکہ بجائے نو مور اور نوٹسز کے، پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرے۔‘

وزیردفاع کے مطابق پاکستان میں دہشت گردوں کی خفیہ پناہ گاہیں نہیں ہیں اور اگر باقیات ہیں تو انہیں رد الفساد کے تحت ختم کیا جارہا ہے۔ ’اگر امریکہ کے پاس دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق ٹھوس اور قابلِ عمل انٹیلی جنس معلومات ہیں تو بتایا جائے پاکستان فوری کارروائی کرے گا۔‘

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئی افغان پالیسی بیان کرتے ہوئے پاکستان میں ان شدت پسند تنظیموں کی خفیہ پناہ گاہوں کا الزام لگایا تھا جو افغانستان میں امریکی اور اتحادی فوجیوں کو نشانہ بنانے میں ملوث ہیں۔ پاکستان ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

پاکستان اور امریکہ کے درمیان عسکری شعبے میں امداد کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر دفاع خرم دستگیر نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعاون تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں امریکہ نے اب بھی دس ارب ڈالر پاکستان کو ادا کرنے ہیں۔ ’ہم اپنی افواج کو سپورٹ کرنے کی پوزیشن میں ہیں، پاکستان کی معیشت میں بتدریج وہ طاقت آ گئی ہے کہ ہم اپنی مسلح افواج کو پوری طرح سپورٹ کر سکیں۔ امداد روک کر پاکستان پر اپنی مرضی مسلط کرنا ممکن نہیں رہا۔‘

تاہم انھوں نے تسلیم کیا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان دو طرفہ دفاعی تعاون ختم ہونے کا نقصان ان پرزہ جات کی مد میں ہوگا جو ملکی افواج امریکہ سےخریدتی ہیں۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ میں امریکہ کی مستقل سفیر نکی ہیلی نے تصدیق کی ہے کہ امریکی ’انتظامیہ 225 ملین امریکی ڈالرز کی پاکستان کو امداد روک رہی ہے۔‘

اس سوال پر کہ کیا امریکہ کی جانب سےحقانی نیٹ ورک یا کسی اور گروہ یا شخص کے خلاف پاکستانی حدود میں یکطرفہ کارروائی کا امکان ہے؟ وزیر دفاع نے کہا کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ پارہ صفت انسان ہیں، اس لیے ایسے کسی امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم ہماری نظر میں ایسی کارروائی کا امکان کم ہے۔ اور امریکہ کو علم ہے کہ اس کے بعد پاکستان کے پاس بھی سپیس گھٹ جائے گا۔‘

پاکستان کے وزیر دفاع نے افغانستان میں قیام امن سے متعلق بات کی اور کہا کہ ’اگر امریکہ کو افغانستان میں امن مقصود ہے تو پاکستان مکمل معاونت کو تیار ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی جنگ پاکستان کی زمین پر نہیں لڑی جائے گی، ’اگر امریکہ کو ایسی امید ہے تو واضح رہے کہ ایسا نہیں ہو گا۔‘

’اگر امریکہ افغانستان میں ناکامی پاکستان کے سر ڈالنے کی کوشش کرے گا تو ہم افغانستان کی ذمہ داری نہیں اٹھائیں گے۔ پاکستان افغانستان کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے، افغانستان کا فرض ہے کہ وہ بھی ہماری خودمختاری کا احترام کرے۔‘