حکومت سندھ کا پہلی بار تعلیم بالغاں پروگرام باقاعدہ شروع کرنے کا فیصلہ

منصوبے کیلیے جائیکا،یو ایس ایڈ اور یونیسف فنڈ دیگی ،ماضی کے تعلیم بالغاں پروگرام میں مضامین سمیت ہر چیز مبہم تھی، ڈائریکٹر۔

کراچی: حکومت سندھ نے غیر ملکی امدادی اداروں کی مدد سے ایک بار پھر تعلیم بالغاں پروگرام باقاعدہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سندھ میں پہلی بار باقاعدہ طور پر تعلیم بالغاں پروگرام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے لیے جاپان انٹرنیشنل کارپوریشن ایجنسی، یو ایس ایڈ اور یونیسف فنڈ فراہم کرے گی، تعلیم بالغاں پروگرام سندھ کے 5اضلاع حیدرآباد، میر پور خاص، ٹنڈو الہ یار، جام شورو، ٹھٹھہ میں 300 سینٹرکھولے جائیں گے جن کے لیے ابتدائی طور پر 300 اساتذہ تعینات ہوں گے۔

تعلیم بالغاں پروگرام کا دورانیہ 6 ماہ پر مشتمل ہوگا لیکن وہ لوگ جو اپنی تعلیم مزید جاری رکھنا چاہیں وہ نان فارمل ایجوکیشن پروگرام کے تحت ڈھائی سے 3 سال کے عرصے میں پانچویں جماعت کے برابر تعلیم حاصل کرکے ایلی مینٹری اور دیگر اسکولوں میں داخلہ لے کر اپنی تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں۔
ڈائریکٹوریٹ آف لٹریسی اینڈ نان فارمل ایجوکیشن کے ڈائریکٹر محمد عالم تھیم نے ایکسپریس کو بتایا ہے کہ چند ماہ میں تعلیم بالغاں پروگرام دوبارہ شروع ہونے والا ہے جس کے لیے وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ سے پالیسی منظور کرالی گئی ہے، ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں تعلیم بالغاں پروگرام شروع کیا گیا تھا جو مختلف مراحل میں چلتا رہا اور مستقل طور پر فنڈز نہ ملنے کے علاوہ دیگر وجوہات کے باعث بند ہوگیا۔

محمد عالم تھیم نے بتایا کہ ماضی میں چلنے والا تعلیم بالغاں پروگرام میں نصاب ، پالیسی، سینٹرز، اساتذہ بھرتی کرنے کا طریقہ کار، پروگرام کے دورانیہ اور پڑھائے جانے والے مضامین سمیت ہر چیز مبہم اور غیر واضح تھی ماضی کے تعلیم بالغاں پروگرام میں کلاسز کا بھی طریقہ کار وضع نہیں تھا بلکہ جو ہے جیسا کی بنیاد پر کام چل رہا تھا لیکن اب تعلیم بالغاں پروگرام کے لیے باقاعدہ نصاب ترتیب دیا جائے گا بلکہ ایک نظام کے تحت حکومت سے منظور شدہ نصاب پڑھایا جائے گا۔

ڈائریکٹر محمد عالم تھیم نے بتایا کہ ایک سروے کے مطابق اس پروگرام میں خواتین زیادہ دلچسپی لے رہی ہیں تعلیم بالغاں کا دورانیہ 6 ماہ پر مشتمل ہوگا جس میں داخلہ لینے والے مرد و خواتین کوابتدائی طور پر نہ صرف لکھنے پڑھنے اور بنیادی ہندسوں کی پہچان سکھائی جائے گی بلکہ خواتین کو گھریلو زندگی کو چلانے کے لیے حساب کتاب اور بجٹ بنانا سکھانا بھی اس غیر رسمی تعلیمی پروگرام کا حصہ ہوگا۔ اس کے علاوہ اس پروگرام میں اندراج شدہ لوگوں کو ہاتھ دھونا، صحت صفائی، گھریلو زندگی کی خوشحالی، بڑوں کے ساتھ بات کرنا اور چھوٹوں کے سات برتاؤ کے علاہ سلائی کڑھائی، بیوٹیشن کورسز، پلمبر کے کورسز بھی سکھائے جائیں گے۔