کرپشن کیس میں انعام اکبر، یوسف کابورو گرفتار، شرجیل کی درخواست ضمانت خارج

ملزم انعام اکبر مقدمے کی کئی سماعتوں پر عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے۔

اسلام آباد / کراچی: سپریم کورٹ نے سابق وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کی درخواست ضمانت خارج کردی ہے جبکہ سرکاری اشتہارات میں کروڑوں روپے کی بد عنوانی کے اسکینڈل کے شریک ملزمان نجی اشتہارت کمپنی کے مالک انعام اکبر اور محمد یوسف کابووو کی درخواست ضمانت خارج ہونے پر انھیں سپریم کورٹ کے احاطے سے نیب نے گرفتار کر لیا۔

گزشتہ ورز جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں3 رکنی بینچ نے محکہ اطلاعات سندھ میں پونے 6ارب کی بدعنوانی کے مقدمات کا سامنا کرنیوالے ملزمان شرجیل میمن،انعام اکبر،یوسف کابورو ،عاصم حمید خان سکندر،بشارت مرزا اور اقبال زیڈ کی درخواستوں پر سماعت کی۔

شرجیل میمن کے وکیل لطیف کھوسہ نے دلائل میں کہا کہ اْنکے موکل کو ضمانت پر رہا کیا جائے۔ اس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ جنرل فضل حق کیس میں سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے کہ ضمانت بعد از گرفتاری کیلیے سپریم کورٹ سے براہ راست رجوع نہیں کیا جاسکتا ،متعلقہ فورمز سے رجوع کرنا لازم ہے۔
ایڈووکیٹ فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ ہمارا اعتراض یہ ہے کہ احتساب عدالت ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔اس پرجسٹس آصف کھوسہ نے کہا شرجیل میمن کی گرفتاری ہوچکی ہے ،بعد ازگرفتاری کی درخواست ہم براہ راست نہیں سن سکتے۔ وکیل لطیف کھوسہ نے کہاکہ یہ نہ دیکھیں موکل ضمانت قبل از وقت گرفتاری یابعد ازگرفتاری آیاہے، میراموکل یہاں ضمانت کے لیے آیاہے۔ جسٹس دوست محمدخان نے کہاکہ آپ انگریزی والی بیل مانگ رہے ہیں یااردووالی! آپ کوجلد رہائی مل جائے ہمیں خوشی ہوگی۔

لطیف کھوسہ نے کہاکہ مجھے اس عدالت کے پاس نہ بھیجیں جس نے میرٹ پر شرجیل کی درخواست خارج کردی۔ جسٹس دوست محمدخان نے کہاکہ آپ کو ضمانت قبل ازگرفتاری خارج کرنے والے بینچ کے سامنے نہیں بھیج رہے، آپ کو سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کاکہہ رہے ہیں۔

لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ نے بغیر کسی کا نام لیے کہا کہ اسلام آباد کے ملزمان آسانی سے آجارہے ہیں ،نواز شریف اور اسحاق ڈار کو جو ریلیف دیا گیا ہم بھی اْس کے حقدار ہیں،کسی اور صوبے سے گرفتاری نہیں کی گئی۔

جسٹس دوست محمد خان نے کہا آپ جذباتی باتیں کر رہے ہیں ،لیڈی ریڈنگ اسپتال پشاور دیکھیں وہ بْک ہیں۔ لطیف کھوسہ نے کہا کہ شرجیل میمن کو ریلیف دیا جائے۔اس پر جسٹس دوست نے کہاکہ ہم بھی چاہتے ہیں شرجیل میمن کو ریلیف ملے ،سیکڑوں مریض رْل رہے ہیں، شرجیل میمن نے اسپتال کے پورے بلاک پر قبضہ کر رکھا ہے۔

انعام اکبر کی درخواست ضمانت پر سماعت کے دوران جسٹس آصف کھوسہ نے پوچھا کہ انعام اکبر 2 پیشیوں میں عدالت نہیں آئے، انھیں کیوں ضمانت دیں؟۔ ،ضمانت قبل از گرفتاری مل جائے تو ہر پیشی میں حاضری ہوتی ہے۔

حکومت سندھ کے گریڈ 18 کے افسر یوسف کابورو کی درخواست پر سماعت ہوئی تو اْنکے وکیل ابراہیم ستی نے دلائل دیے کہ میرے موکل پر الزام ہے کہ اْنھوں نے اشتہاری کمپنی کو جاری کردہ ادائیگیوں کے چیک پر دستخط کیے، میرے موکل کیخلاف ریفرنس زیر سماعت ہے ،میرے موکل نے کرپشن نہیں کی ،اْن پر اختیارات سے تجاوز کا مقدمہ ہے۔ وزرا اپنے پی ایس کو جو حکم دیتے ہیں میرا موکل یا اْن پر عمل کرتا یا پھر استعفیٰ دیکر چلاجاتا۔اس پر جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ اسی سوچ کی وجہ سے ملک کا یہ حال ہے ،جب تک سرکاری اہلکار اعلیٰ حکام کے غیر قانونی حکم پر انکار کرتے رہے ملکی حالات ٹھیک رہے۔

ابراہیم ستی نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی،راجا پرویز اشرف اور نوا ز شریف کو نیب نے گرفتار نہیں کیا ،کیپٹن صفدر کو بھی ضمانت دی گئی،سپریم کورٹ کے فیصلوں کے بعد لوگ تقریریں کر رہے ہیں ،گھوم پھر رہے ہیں۔جسٹس دوست محمد خان نے کہا کہ نیب کی حراست میں رہنے سے ڈائیٹنگ ہو جائے گی ،صحت اچھی رہے گی،کنویں کی مٹی کنویں میں جاتی ہے۔نیب کے وکیل نے کہا کہ انعام اکبر بد عنوانی اسکنڈل کے بینیفشری ہیں۔جسٹس دوست محمد نے کہا کہ کسٹم کی طرح نیب کا انٹیلی جنس سسٹم کیوں نہیں ہے؟۔

بعد ازاں عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد شرجیل انعام میمن کی درخواست ضمانت خارج کردی۔انعام اکبر ، یوسف کابورو ،عاصم حمید خان سکندر کی درخواست ضمانت بھی خارج کردی گئیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ گرفتاری کے بعد دونوں درخواستیں غیرموثر ہوچکی ہیں اورملزم ضمانت بعد ازگرفتاری کیلیے ہائی کورٹ سے رجوع کرسکتا ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نیب کورٹ کا بشارت مرزا اور اقبال زیڈ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کیخلاف درخواستیں اپنی نوعیت کا منفرد کیس ہے ،اس لیے اس مقدمے کو الگ سے سنیں گے۔ عدالت نے ان درخواستوں پر نیب سے 7 دن میں تحریر ی جواب طلب کرلیا۔

علاوہ ازیں کراچی میں نیب کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق نیب نے سپریم کورٹ اسلام آباد کے احاطے سے محکمہ اطلاعات سندھ میں اربوں کی کرپشن میں ملوث ملزمان انعام اکبر اور یوسف کابورو کو گرفتار کرلیا۔ انعام اکبر اشتہاری کمپنی میسرز ایورنیو کانسیپٹ کا مالک جبکہ یوسف کابورو حکومت سندھ کے محکمہ اطلاعات میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر کام کرچکے ہیں۔

دونوں ان 17 ملزمان میں شامل ہیں جن کے خلاف 3.2 بلین روپے کی کرپشن کے کیس میں نیب ریفرنس دائر کیا گیا تھا۔ 12 ملزمان کو گذشتہ سال 23 اکتوبر کو سندھ ہائیکورٹ سے ضمانت کی درخواستیں خارج ہونے پر گرفتار کرلیا گیا تھا۔ ایک ملزم فواد محمود (ڈائریکٹر ایورنیو ) کا انتقال ہوچکا ،ایک ملزمہ انیتا بلوچ ( محکمہ اطلاعات کی افسر) مفرور ہے جبکہ ایک ملزم ریاض منیر (سی ای او ایورنیو) کی ضمانت سندھ ہائیکورٹ سے منظور ہوچکی ہے۔

ملزم انعام اکبر کو 3.2 بلین روپے کی کرپشن کے کیس میں 2.2 بلین روپے کی کرپشن کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔کراچی سے اسٹاف رپورٹر کے مطابق نیب کے ہاتھوں گرفتار ملزمان انعام اکبر اور یوسف کابورو کو گزشتہ شب اسلام آباد سے کراچی پہنچا دیا گیا ۔دونوں ملزمان کو نیب حکام آج (بدھ کو) عدالت میں پیش کرینگے۔

واضح رہے کہ ملزم انعام اکبر مقدمے کی کئی سماعتوں پر عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے۔