وفاقی کابینہ کی مردم شماری کےعبوری نتائج حلقہ بندیوں کیلیے استعمال کرنیکی منظوری

اسلام آباد: وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس نے مردم شماری کے عبوری نتائج کو حلقہ بندیوں کے لیے استعمال کرنے کی منظوری دیدی ہے۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیان اور ملکی سیاسی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے الزامات میں پاکستان کی جوابی حکمت عملی کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی کابینہ نے اتفاق کیا کہ ہزاروں جانوں کی قربانی کے باوجود پاکستان پر الزامات انتہائی افسوسناک ہیں۔

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹر پر ایک بار پھر پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکا نے گزشتہ 15 سالوں کے دوران اسلام آباد کو 33 ارب ڈالر امداد دے کر بے وقوفی کی۔

انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں مزید لکھا کہ امریکی امداد کے بدلے میں پاکستان نے ہمیں جھوٹ اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں دیا۔

امریکی صدر کے بیان پر پاکستان اور امریکا کے تعلقات ایک بار پھر کشیدگی کی طرف جاچکے ہیں۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت گزشتہ روز قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس بھی ہوا جس میں جلد بازی میں کوئی قدم نہ اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔

وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں 16 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا جبکہ کابینہ نے ملکی اقتصادی صورت حال سمیت سیکیورٹی صورت حال کا بھی جائزہ لیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس نے مردم شماری کےعبوری نتائج حلقہ بندیوں کے لیے استعمال کرنے کی منظوری دیدی ہے۔

وفاقی کابینہ نے چھٹی مردم شماری کے بلاکس کی سطح کے نتائج جاری کرنے کی سمری شماریات ڈویژن بھجوانے کی ہدایت بھی کی ہے اور نئی آئینی ترمیم کے بعد الیکشن کمیشن عبوری نتائج پر حلقہ بندیاں کرے گا۔

خیال رہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران امریکا کی جانب سے پاکستان پر متعدد بار دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کیا جا چکا ہے جس کے جواب میں پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے واضح پیغام دیا تھا کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دیں اور امریکا اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر گرانے کے لیے بے بنیاد الزامات عائد کر رہا ہے۔