چیئرمین نیب کا کیپٹن (ر)صفدر کیخلاف بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات کا حکم

قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر)جاوید اقبال نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے داماد کیپٹن (ریٹائرڈ) صفدر کیخلاف تحقیقات کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف قانون اور قواعد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے من پسند افراد کو ٹھیکے دینے اور بعد ازاں 3 ارب روپے کے ٹھیکوں میں مبینہ طور پر 2 ارب روپے جعلی اسکیموں کے ذریعے خوردبرد کرنے کے الزامات کا نوٹس لے لیا۔

نیب کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق چیئرمین نیب نے ان الزامات کا نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی مکمل جانچ پڑتال کی ذمہ داری نیب خیبر پختونخوا کو سونپ دی ہے۔

چیئرمین نیب نے ڈائریکٹر جنرل نیب خیبر پختونخوا کو ہدایت کی ہے کہ درخواست کی جانچ پڑتال شفاف، میرٹ اور قانون کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے مکمل کی جائے تاکہ مبینہ رقوم کی خورد برد کے تمام ذمہ داروں سے قوم کی لوٹی ہوئی رقم برآمد کر کے قومی خزانہ میں جمع کروائی جائے اور ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوائی جائے۔

ایون فیلڈ ریفرنس: شریف خاندان کا نیب سے تعاون نہ کرنے کا فیصلہ، ذرائع

خیال رہے کہ نیب نے پہلے ہی شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کررکھے ہیں جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ سے متعلق ہیں۔

نیب نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف ان کے بچوں حسن، حسین ، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ملزم ٹھہرایا تھا۔

ذرائع کے مطابق شریف خاندان نے ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں نیب کے ساتھ تعاون نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ سابق وزیراعظم کا یہ کہنا ہے کہ اگر ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کی ملکیت شریف خاندان سے ثابت کرنے کے حوالے سے نیب کے پاس کوئی ثبوت ہے تو اسے چاہیے کہ وہ احتساب عدالت میں پیش کرے۔

ریفرنسز
پانامہ پیپر کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے 28 جولائی کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف تین اور اسحاق ڈار کے خلاف ایک ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کیا۔

سپریم کورٹ کی جانب سے نیب کو مذکورہ افراد کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنسز دائر کرنے کے لیے چھ ہفتوں کا وقت دیا تھا جبکہ احتساب عدالت کو ان ریفرنسز کو نمٹانے کے لیے چھ ماہ کا وقت دیا گیا تھا۔

شریف خاندان کے خلاف ریفرنسز عزیزیہ اسٹیل ملز اور میٹلز اسٹیبلشمنٹ، لندن پراپرٹیز اور درجنوں آفشور کمپنیاں بنانے سے متعلق ہیں۔

مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر صرف لندن پراپرٹیز سے متعلق ریفرنس میں نامزد ہیں۔ اس ریفرنس کی پچھلی سماعتوں میں احتساب عدالت ایون فیلڈ پراپرٹیز کیس میں مریم اور صفدر کی ضمانت منظور کرچکی ہے اور انہیں فی کس 50 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔

کیپٹن (ر)صفدر پر عدالت کی اجازت کے بغیر ملک چھوڑنے پر بھی پابندی عائد کردی گئی تھی جبکہ جج نے مریم اور صفدر کو ریفرنس کی کاپی بھی فراہم کی تھی جو 53 والیمز پر مشتمل تھی۔

نیب راولپنڈی برانچ نے شریف خاندان کے خلاف دو ریفرنسز تیار کیے جن میں عزیزیہ اسٹیل ملز اور میٹلز اسٹیبلشمنٹ اور درجنوں آفشور کمپنیوں سے متعلق ریفرنسز شامل ہیں۔

نیب لاہور برانچ نے بھی دو ریفرنسز تیار کیے جن میں ایک شریف فیملی کے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس اور دوسرا اسحاق ڈار کے خلاف آمدنی سے زائد اثاثے بنانے سے متعلق ہے۔

اگر مذکورہ ملزمان پر جرم ثابت ہوگیا تو انہیں 14 برس تک قید، سرکاری عہدہ رکھنے پر تاحیات پابندی سمیت ان کے اثاثے اور بینک اکاؤنٹس منجمد بھی کیے جاسکتے ہیں۔