ٹرمپ کا بیان: پارلیمنٹ کی مشترکہ قومی سلامتی کمیٹی کے اہم اجلاس کیلئے شرکا کی آمد

اسلام آباد: امریکی صدر کی دھمکیوں کے بعد کی صورتحال پر غور کے لیے پارلیمنٹ کی مشترکہ قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس اب سے کچھ دیر بعد ہوگا۔

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز شرکت کریں گے جب کہ اجلاس میں ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان اور پاکستان کے جوابی بیانیے پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے لئے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اجلاس کی صدارت کے لئے کمیٹی روم پہنچ گئے

اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ، نوید قمر، غلام احمد بلور ، بیرسٹر ظفر اللہ، سینیٹر مشاہد اللہ، شاہ محمود قریشی اجلاس میں شرکت کے لئے پہنچ گئے۔

ذرائع کا کہنا ہےکہ وزیر خارجہ خواجہ آصف موجودہ صورتحال پر ارکان کو بریفنگ دیں گے اور ارکان کو قومی سلامتی کمیٹی کے منگل کو ہونے والے اجلاس کے فیصلوں پر اعتماد میں لیا جائے گا۔

ارکان اسمبلی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان اور پاکستان کے جوابی بیانیے پر غور کریں گے جس کے بعد سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز کی سفارشات وفاقی حکومت کو پیش کی جائیں گی ۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز وفاقی کابینہ کے اجلاس میں واضح کیا گیا تھا کہ سول اور فوجی قیادت ایک پیج پر ہے، امریکا کے امداد بند کرنے سے فرق نہیں پڑتا اور پاکستان کے پاس بھی کئی آپشن موجود ہیں۔

وزیر دفاع خرم دستگیر نے بھی برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان عسکری تعاون تقریباً ختم ہوچکا ہے اور امداد روک کر پاکستان پر اپنی مرضی مسلط کرنا ممکن نہیں رہا۔
خرم دستگیر نے کہا کہ پاکستان کی آدھی فضائی حدود امریکا کے لیے مکمل طور پر کھلی ہے، جبکہ زمینی راستے بھی دیے گئے ہیں، ’ان کے بغیر امریکا کی افغانستان میں رسائی نہایت مشکل ہو گی، اس لیے امریکا بجائے نو مور اور نوٹسز کے، پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرے۔