’امریکا کے طعنے جرنیلوں اور سیاستدانوں سمیت سب کیلئے لمحہ فکریہ ہیں‘

وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کا کہنا ہےکہ امریکا کی طرف سے آج ہم پر طعنے اور زہر آلود تیر برسائے جارہے ہیں جو جرنیلوں، سیاستدانوں سمیت ہر ایک کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

لاہور میں سیف سٹی پراجیکٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہبازشریف نے کہا کہ 70 سال گزر گئے، آج ہم پر طعنے اور زہر آلود تیر برسائے جارہے ہیں جو جرنیلوں، سیاستدانوں سمیت ہر ایک کے لیے لمحہ فکریہ ہے، اس سے بہتر تو عزت کی موت ہے، امریکی صدر کا بیان قومی وقار کے مناف اور عزت نفس مجروح کرنے کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے بڑا اور کوئی لمحہ نہیں آیا جب اتنی دیدہ دلیری سے آپ کے وقار کا تیا پانچا کیا گیا، قصور ہمارا اپنا ہے، 33 ارب ڈالر کی طرح بھیک کے پیچھے رہے، اس کے اوپر اپنی عزت کا سودا کرتے رہے لیکن آج بھی ہوش کے ناخن لیں، ہمیں امریکا یا کسی اور ملک سے کوئی لڑائی نہیں لڑنی، امریکا بہت بڑی طاقت ہے، ہمیں عزت و وقار کے ساتھ مشاورت کے ساتھ فیصلہ کرنا چاہیے، امریکا سے کہیں آپ سے عزت کے ساتھ معاملات کریں گے، آپ کے پیسے، امداد اور قرض نہیں چاہیے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ روکھی سوکھی کھالیں گے، کشکول اور مانگے تانگے کی زندگی میں عزت نہیں ملتی، اسٹیک ہولڈرز مل کر مشاورت سے فیصلہ کریں اور ایسی امداد سے توبہ کرلیں، اس سے چھٹکارا حاصل کرلیں جس پر صبح شام طعنہ زنی ہو، اس چیز کا سامنا کرنا آسان نہیں، ہمیں شرمندہ کیا جائے ہماری بے توقیری کی جائے۔

شہبازشریف نے مزید کہا کہ فیصلہ اشرافیہ نے کرنا ہے، عوام نے کبھی پاؤنڈز اور ڈالرز نہیں دیکھے، عوام محنت کرکے خون پسینہ گراکر مشکل سے رزق حلال کماتے ہیں، ہمیں سوچ سمجھ کر قوت ارادی کے ساتھ جواب دینا ہوگا، امریکا سے کہیں آپ نے جو پیسے لیے اس کا حساب لیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے آپ اور اس نظام سے جنگ کرنا ہے، اس نظام کو دفن کرنا ہے جس نے اس مقام پر پہنچایا جس میں ہم پر دن رات طعنہ زنی ہورہی ہے، ہمارے بزرگوں نے خون بہا کر ملک اس لیے نہیں بنایا کہ 70 سال بعد جو اٹھے پگڑی اچھال دے اور دشنام طرازی کرے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ پچھلے چار سالوں میں ہزاروں میگاواٹ بجلی کے منصوبے جو سی پیک سے ہٹ کر قائم کیے گئے وہ حکومت پاکستان نے اپنی جیب سے لگائے، ماضی کی 70 سالہ تاریخ میں پانچ سو میگاواٹ کا منصوبہ لگانے کے لیے ہم کشکول لے کر چل پڑتے تھے۔

شہبازشریف نے کہا کہ ہمیں فخر ہونا چاہیے کہ ایک دھمکی آئی اور چین ہمارے ساتھ کھڑا تھا۔