بھارت کا پرتشدد راستہ جنوبی ایشیا کے امن میں بڑی رکاوٹ ہے، وزیراعظم


اسلام آباد: وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہےکہ بھارت کا تشدد کا راستہ جنوبی ایشیا میں امن کے قیام میں بڑی رکاوٹ بن رہا ہے لہٰذا اس کے پر تشدد رویئے سے خطے میں امن کے قیام میں مدد نہیں ملے گی۔

وزیراعظم شاہدخاقان عباسی سے جاپان کے وزیرخارجہ تاروکونو نے ملاقات کی جس میں دونوں ملکوں کے تعلقات سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر جاپانی وزیر خارجہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، دہشتگردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے پاکستان کا کردار اہمیت کا حامل ہے۔

جاپانی وزیر خارجہ سے گفتگو میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ جاپان کے ساتھ تجارتی وسرمایہ کاری تعلقات بڑھانے کو خوش آمدید کہتے ہیں، پاکستان اور جاپان کے حکومت اور عوام کے ساتھ گہرے اور قریبی تعلقات ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم خطے میں امن و سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے پرعزم ہیں، پاکستان دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی کوششوں سے اپنے عزم کو جاری رکھے گا۔

اس موقع پر وزیراعظم نے خطے میں بھارتی رویئے پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بھارت کا تشدد کا راستہ جنوبی ایشیا میں امن کے قیام میں بڑی رکاوٹ بن رہا ہے، بھارت کے پر تشدد رویئے سے خطے میں امن کے قیام میں مدد نہیں ملے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ رابطوں اور تعلقات کو خراب کرنے کے راستے پر گامزن ہے، وہ مذاکرات سے راہ فرار کے حربے اور راستے اختیار کررہا ہے۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں تشدد سے بڑے پیامنے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کررہا ہے