ریئل اسٹیٹ ایجنٹس نے پیر سے ملک گیر احتجاج کا اعلان کردیا

کراچی(ہاٹ لائن) ملک بھرکی ریئل اسٹیٹ ایجنٹس کی تنظیموں نے جائیدادوں کی دہری ویلیوایشن کیخلاف پیر 24اکتوبر سے ملک گیر احتجاجی تحریک اور مظاہرے شروع کرنے کا اعلان کر دیا، احتجاجی حکمت عملی کے تحت ایف بی آر کے دفاتر کا گھیراؤ بھی کیا جائیگا۔
اس بات کا اعلان کراچی میں منعقدہ آل پاکستان ریئل اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشنز کنونشن میں کیا گیا جس میں ملک بھر کی 12نمائندہ ریئل اسٹیٹ ایسوسی ایشنز کے سربراہان اور نمائندوںنے شرکت کی۔
کنونشن میں قرارداد منظورکی گئی اور ملک بھر کی ریئل اسٹیٹ ایسوسی ایشنز جن میں ڈیفنس کلفٹن ریئل اسٹیٹ کے صدرراجہ مظہر حسین، اسلام آباد اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن چوہدری عبدالرؤف، چیئرمین، ڈی ایچ اے ویلی راولپنڈی اینڈاسلام آباد ریئل اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن میجر ریٹائرڈ محمد طفیل، صدر ڈی ایچ اے لاہور اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن میجر ریٹائرڈ رفیق حسرت، صدر جوہر ٹاؤن لاہور اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن شفقت بندیشہ، چیئرمین بحریہ ٹاؤن لاہور اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن محمد نعیم، صدر پشاور اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن مظہر وکیل درانی، صدر گوادر اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن فیصل جمال دشتی، صدر ڈی ایچ اے رہبر ریئل اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن طاہر مسعود، صدر نارتھ ناظم آباد ریئل اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن مسٹر عرفان اور صدر ناظم آباد ریئل اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن کے نمائندے محمد قیصر کے دستخط سے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ ایف بی آر کی جانب سے جائیداد کی 2 الگ الگ ویلیو ایشن (ڈی سی اور ایف بی آر)کا نظام رائج کرتے ہوئے جائیدادوں کی ویلیوایشن کے ساتھ ٹیکس کو بھی دگنا کردیا گیا ہے۔
ان قوانین کا سہارا لے کر ایف بی آر حکام ریئل اسٹیٹ ایجنٹس و نئے خریداروں کو ہراساں کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ملک بھر میں جائیدادوں کی خریدو فروخت کا 90 فیصد کاروبار ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے، بہت سا کاروبار دبئی، ملائیشیا اور دیگر ممالک میں منتقل ہو گیا ہے، بینکوں میں لین دین نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے، اگر حکومت نے دہرانظام ختم اور ٹیکسز کوکم نہ کیا تو باقی 10 فیصد کاروبار جو چھوٹے پلاٹس کی خریدوفروخت کا ہو رہا ہے وہ بھی بند ہو جائے گا۔
ریئل اسٹیٹ ایجنٹس نے کہا کہ ایف بی آر حکام نے ریئل اسٹیٹ ایجنٹس سے مشاورت کیے بغیر ڈی ایچ اے سٹی اور بحریہ ٹاؤن کوبھی اپنی ویلیو ایشن ٹیبل میں شامل کر دیا ہے جس کی وجہ سے یہاں بھی کاروبار بند ہو گیا ہے، اسے ٹیبل سے فوری ہٹایا جائے۔ کنونشن نے مطالبہ کیاکہ ملک بھر میں 1986 سے رائج ڈپٹی کمشنر ویلیوایشن نظام پورے ملک کیلیے بہت بہتر اور قابل قبول ہے، اسے مناسب ضروری ترامیم کے ساتھ جاری رکھا جائے۔