ہر معاملے پر قانون صرف سندھ کیلئے ہے، مولابخش چانڈیو برس پڑے

کراچی (ہاٹ لائن)پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما اور مشیر اطلاعات سندھ مولا بخش چانڈیو نے وزیراعلی سندھ کے مشیر قانون سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے پر پرشدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر معاملے پر قانون صرف سندھ کیلئے ہے، باقی صوبوں کیلئے فیصلے الگ کیے جاتے ہیں۔جب وفاق اورتینوں صوبوں میں مشیررکھے جاسکتے ہیں توسندھ میں پابندی کیوں لگائی جارہی ہے۔ہم عدلیہ کا احترام کرتے ہیں اور ان کے ہر فیصلے پر من و عن عمل کریں گے لیکن مشیروں کا تقرر کیسے غیر آئینی ہے ہمیں سمجھایا جائے ۔میں نے آج تک پیپلز پارٹی کے لئے عدلیہ کے منہ سے خوش خبری نہیں سنی پہلے عدلیہ وقت پر انصاف تو دے ۔ دادا مقدمہ کرتا ہے پوتا بھی لڑتا ہے۔ اپیکس کمیٹی میں مرتضیٰ وہاب نے عدلیہ میں مقدمات کے تعطل کے حوالے سے بات کی تھی جس کی انہیں سزا دی گئی ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے بدھ کو سندھ سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر مشیر محنت سندھ سینیٹر سعید غنی بھی موجود تھے ۔مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق معاونین خصوصی مشیران کابینہ اجلاس میں نہیں بیٹھ سکتے ہیں ۔تقرری مرتضیٰ وہاب کی چیلنج کی گئی تھی لیکن فیصلہ پوری حکومت کے خلاف دے دیا گیا ہے ۔فیصلہ کو پسند یاناپسند کرنے کا اختیار لوگوں کے پاس ہے اسی لئے اپیل کا حق بھی رکھا گیا ہے ۔انہوںنے کہا کہ آئین نے کسی شخص کو صوابدیدی اختیارات دیئے ہیں تو کوئی اور کیسے اختیار کر سکتا ہے۔آئین کا مخصوص علاقوں میں مخصوص چہرہ نظر آئے تو یہ اچھی بات نہیں ہے ۔دیگر صوبوں کے لئے فیصلے کچھ اور سندھ میں کچھ اور ہیں۔کیا آئین کا اس طرح سے اطلاق صرف سندھ کے لئے رہ گیا ہے۔انہوںنے کہا کہ مشیروں کا تقرر کیسے غیر آئینی ہیں ہمیں سمجھایا جائے۔ہم سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف نہیں جانا چاہ رہے لیکن جو معاملہ عدالت میں لایا ہی نہیں گیا اس پر فیصلہ آنا عجیب بات ہے۔