نئےآرمی چیف کے لئے زیر غور ناموں میں سے ایک جنرل کا تعلق قادیانی خاندان سے ہے؟ حقیقت سامنے آگئی

اسلام آباد (ہاٹ لائن) پاک فوج کے اعلیٰ ذرائع نے کہاہے کہ آرمی چیف کے عہدے کیلئے زیر غور ایک سینئر جرنیل اور ان کے عقیدے کیخلاف چلائی جانے والی مہم بے بنیاد اور غلط ہے اور ایسی باتیں مذموم مفادات کے تحت پھیلائی جا رہی ہیں۔ سینئر ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ اعلیٰ سیکورٹی ایجنسی نے متعلقہ حکام کو تحریری طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ نہ صرف مذکورہ فوجی جرنیل بلکہ ان کے اہل خانہ عقیدے کے لحاظ سے مسلمان ہیں۔

اعلیٰ فوجی ذرائع کی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے بتایاکہ آرمی چیف کے عہدے کیلئے ممکنہ امیدواروں میں سے دو دیگر افسران کیخلاف بھی کچھ دن قبل مذموم مفادات کے تحت مہم چلائی گئی تھی اور اس کے پیچھے بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ ایسا کوئی الزام عائد کر دیا جائے اور اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے اسے متنازع بنا دیا جائے۔ سینئر فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ غیر نوشتہ اصول بن چکا ہے کہ احمدی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی شخص لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر نہیں پہنچ سکتا کیونکہ اس موضوع کے حوالے سے عام عوام میں پائے جانے معاملات کی حساسیت کی وجہ سے کئی چیک نافذ کیے گئے ہیں۔

ایک سینئر فوجی افسر نے دی نیوز کو بتایا کہ ”کسی بھی تربیت یا پھر کورس میں شمولیت کیلئے تقریباً ہر سال ہر مسلم افسر کو ایک فارم پر کرنا ہوتا ہے جس میں اس افسر کو واضح الفاظ میں بتانا ہوتا ہے کہ وہ ختم نبوت پر یقین رکھتا ہے اور احمدی کمیونٹی سے تعلق نہیں رکھتا۔“ انہوں نے مزید کہا کہ آرمی چیف کے عہدے کیلئے ممکنہ افسران میں سے ایک جرنیل کیخلاف مہم بے بنیاد اور غلط ہے اور اس اقدام کے پیچھے مذموم مفادات پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سازش کا بنیادی مقصد مسلح افواج میں تقسیم پیدا کرنا ہے لیکن یہ چال ناکام ہوگی۔ مذکورہ جرنیل کے اہل خانہ، رفقاءاور جاننے والے افراد کی جانب سے بھی اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ جرنیل خود یا ان کے اہل خانہ کا کوئی رکن احمد کمیونٹی سے تعلق نہیں رکھتا، اسلام مسلمانوں کو سکھاتا ہے کہ کسی پر بھی ٹھوس شواہد کے بغیر الزام عائد نہیں کرنا چاہئے۔ لیکن اس معاملے میں لوگوں نے ایک شخص کے عقیدے کے متعلق بنا کسی وضاحت اور شواہد کے بیانات جاری کیے جو کہ سراسر جھوٹ تھے۔ ایسی باتیں پھیلانا ان کے اپنے اسی عقیدے کی تعلیمات کے خلاف ہے جس کے تحت وہ احمدی کمیونٹی کو غیر مسلم قرار دیتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے ساتھ طویل عرصہ سے بحیثیت سے سینیٹر وابستہ رہنے والے سرکردہ اسلامی سکالر پروفیسر ساجد میر بھی اسی پروپیگنڈہ کا حصہ بنے اور انہوں نے مذکورہ جرنیل کو حمدی قرار دیا لیکن مناسب وضاحت کے بعد انہوں نے اپنے سابقہ بیان کی تردید جاری کرتے ہوئے بیان واپس لے لیا۔ْ