پاناما لیکس سکینڈل : تحریک انصاف نے نئے ثبوت سپریم کورٹ میں جمع کرادیئے

اسلام آباد (ہاٹ لائن) تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کی قانونی ٹیم نے وزیراعظم نواز شریف اور ان کے اہلخانہ کے خلاف پاناما اسکینڈل کیس کے الزامات ثابت کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں نئے ثبوت پیش کرنا شروع کردیئے۔
چیئرمین عمران خان کی سربراہی میں بنی گالا میں ہونے والی قانونی ٹیم کے مشاورتی اجلاس کے بعد رکن قومی اسمبلی عارف علوی نے ڈان کو بتایا کہ پی ٹی آئی نے نواز شریف اور ان کے اہلخانہ کے خلاف نئے ثبوت حاصل کرلیے ہیں، جنہیں بدھ 30 نومبر کو ہونے والی سماعت میں سپریم کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔
نئے ثبوتوں کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں عارف علوی کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت نئے ثبوتوں سے متعلق تفصیلات میڈیا سے شیئر نہیں کرسکتے، تاہم انھیں 30 نومبر کو عدالت عظمیٰ میں پیش کردیا جائے گا۔
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ نئے ثبوت شریف خاندان کی جانب سے لندن میں خریدے گئے فلیٹس سے متعلق ہیں۔
اس سے قبل پاناما اسکینڈل کیس کی سماعت سے 2 دن قبل ہی پیر 28 نومبر کو پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری اور ڈاکٹر بابر اعوان نے پاناما اسکینڈل کیس میں اہمیت رکھنے والے شریف خاندان کے 1999میں پارک لین فلیٹس کی ملکیت سے متعلق ثبوتوں سمیت دیگر ثبوت جمع کرائے۔
تحریک انصاف نے مزید ثبوت بدھ 30 نومبر کو چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کی 5 رکنی بینچ کے سامنے پیش کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
سپریم کورٹ میں جمع کرائے 4 صفحات پر مشتمل ثبوت التوفیق کمپنی کے وکیل کی جانب سے انویسٹمنٹ فنڈز لمیٹڈ (یوکے) کے لیے ہدایت نامے پر مشتمل ہیں، جو نومبر 1999 میں لندن لینڈ رجسٹری کو بھیجا گیا تھا۔
ثبوتوں سے اس بات کے اشارے ملتے ہیں کہ چاروں فلیٹس سے متعلق برطانوی عدالت میں پہلے بھی سوالات کیے گئے تھے، ’کوئینز بینچ ڈویڑن آف ہائی کورٹ آف جسٹس‘ کی عدالت نے التوفیق کمپنی کی جانب سے حدیبیہ پیپرز مل لمیٹڈ کے خلاف کیس میں بھی فلیٹوں کی خریدوفروخت سے گریز کرنے کی ہدایت کی تھی۔
برطانوی وکیل رابرٹ اینتھونی نے لندن لینڈ رجسٹری کو 5 نومبر 1999 کو چاروں فلیٹس سے متعلق عدالتی فیصلے سے آگاہ کردیا تھا۔
عدالت نے شیزی میکی نامی گواہ کے بیان کے بعد شہباز شریف کو ایک کروڑ 77 لاکھ 19 ہزار امریکی ڈالرز سے زائد یعنی پاکستانی ایک ارب 85 کروڑ 91 لاکھ روپے سے زائد کی رقم التوفیق کمپنی کو ادا کرنے کا حکم دیا تھا، جب کہ ان کے والد میاں محمد شریف کو 14 ملین امریکی ڈالر یعنی پاکستان کے 14 ارب سے زائد کی رقم ادا کرنے کی ہدایت کی تھی۔
یاد رہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کے تینوں بچوں مریم، حسن اور حسین شریف کی جانب سے عدالت میں جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا تھا کہ 2006 سے قبل پاک لین کے چاروں فلیٹس کی ملکیت ان کے پاس نہیں تھی، بلکہ چاروں فلیٹوں کو قطر کے سابق وزیر خارجہ حماد بن جاسم بن جابر الثانی کی جانب سے خریدا گیا۔
جائیداد کے مالکانہ حقوق کی منتقلی 2 کمپنیوں نیلسن انٹرپرائزز لمیٹڈ اور نیسکول لمیٹڈ کمپنیوں کے ذریعے محفوظ طریقے سے کی گئی، جب کہ جائیداد کے شیئر سرٹیفکیٹ قطرکے الثانی خاندان کو دیئے گئے۔