ثابت کریں گے مریم نواز شریف کی زیر کفالت ہیں :عمران خان

اسلام آباد (ہاٹ لائن ) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ثابت کریں گے مریم نواز شریف کی زیر کفالت ہیں ،ایسا کچھ نہیں کرینگے جس سیکیس متاثر ہو،وزیر اعظم صرف منہ سے کہتے ہیں احتساب کیلئے تیار ہیں ،متعلقہ دستاویزات جمع نہیں کرائی گئیں ،حکومت راہ فرار چاہتی ہے،عدالت نے تاخیری حربہ ناکام بنا دیا۔سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس کیس میں پیشی کے بعد بنی گالہ میں میڈیا سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ جمہوریت میں وزیراعظم جوابدہ ہوتا ہے، نواز شریف نے 7 ماہ پہلے کہا تھا کہ ہم احتساب کے لئے تیار ہیں لیکن نوازشریف نے آج بھی ثبوت جمع نہیں کرائے اور ان کے وکیل نے مزید 2 ہفتوں کی مہلت مانگ کر ثابت کردیا کہ نواز شریف پاناما لیکس کے معاملے پر احتساب کے لئے تیار نہیں ہیں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ آج کی عدالتی کارروائی سے دلی خوشی ہوئی، عدالت عظمی نے 4 سوالوں کے جواب مانگے ہیں اور شریف خاندان کو صرف 7 روز کی مہلت دی گئی ہے جو خوش آئند ہے، سپریم کورٹ کیس کا فیصلہ جلد از جلد کرنا چاہتی ہے اس لئے کیس زیادہ لمبا نہیں چلے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کیس کا فیصلہ 2 سماعتوں میں بھی ہوسکتا ہے، سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر 4 سوالوں کے جوابات دے دیئے جائیں تو شاید کمیشن کی ضرورت ہی نہ پڑے اور یہی ججز فیصلہ کردیں۔عمران خان نے کہا کہ حکومت پاناما کیس میں تاخیری حربے استعمال کرنا چاہتی ہے ، ایسا کوئی کام نہیں کریں گے جس سے کیس پر اثر پڑے ۔ہم عدالت اس لئے گئے کہ وزیراعظم نہ جواب دیتا تھا نہ تلاشی دیتا تھا اور ساری قوم کو لٹکایا ہوا تھا، جمہوریت میں وزیراعظم تلاشی دیتا ہے یا استعفی دیتا ہے تیسرا کوئی آپشن نہیں ہوتا۔عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ وہ جواب دینے کے لیے بالکل تیار ہیں، انہوں نے اپنا فلیٹ کبھی نہیں چھپایا اور فلیٹ خریدنے کے سات سال بعد شوکت خانم ہسپتال بنایا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ 1983 میں فلیٹ خریدا، والدہ شوکت خانم خود بھی اس فلیٹ میں ٹھہر چکی ہیں تو پھر کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہسپتال سے فلیٹ بنایا۔پی ٹی آئی کے سربراہ ریحام خان سے نکاح کی تاریخ سے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب ٹال گئے ۔