ترک صدر کس کی درخواست پر تشریف لائے؟کیا ایک نیا NRO ہونے جا رہا ہے ؟ سینئر صحافی ‘ کالم نگار اور ٹی وی اینکر ذوالفقار احمد راحت کی تہلکہ خیز رپورٹ

لاہور (سپیشل رپورٹ) ذمہ دار ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ پاک فوج اور سیاسی قیادت میں دن بدن بڑھتی ہوئی خلیج اور سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی وجہ سے ایک بار پھر قومی افق پر غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ایک ہفتہ قبل تک ترک صدر طیب اردگان کا دورہ پاکستان شیڈول نہیں تھا ‘ ترک صدر کا ہنگامی دورہ پاکستان کے حکمران خاندان کی اہم شخصیت کی ذاتی درخواست پر طے کیا گیا ہے جس میں ترک صدر کو درخواست کی گئی ہے کہ وہ پاکستان آ کر فوج اور سول لیڈر شپ کے درمیان تعلقات کو بہتر کروانے کیلئے کردار ادا کریں اور اس کیساتھ ساتھ ترک صدر کو یہ بھی درخواست کی گئی ہے کہ آپ پانامہ لیکس کے حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان میں جاری نواز شریف کیخلاف کیس کی سماعت کے بارے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ترک صدر عسکری اور سیاسی قیادت کے درمیان موجود تناﺅ کو ختم کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں گے۔ ترک صدر کے دورہ کی ٹائمنگ انتہائی اہم ہے ایک طرف عسکری اور سول قیادت کے درمیان تناﺅ عروج پر ہے دوسری طرف نئے آرمی چیف کی تقرری کا فیصلہ کیا جانا ہے جس پر کہا جا رہا ہے کہ عسکری اور سول قیادت کے مابین اتفاق رائے نہیں ہو سکا ‘ ابھی تک سپریم کورٹ میں وزیر اعظم اور اسکے خاندان کیخلاف جاری سماعت کے نتائج کے بارے میں بھی ابھی سے کہا جا رہا ہے کہ یہ فیصلہ وزیر اعظم کی نا اہلی کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ترک صدر ان تمام ایشوز پر اپنا کردار ادا کرتے ہوئے درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کریں گے جس کو ایک مزید این آر او کا نام بھی دیا جا رہا ہے کیونکہ بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وزیر اعظم پاکستان کو محفوظ راستہ دینے پر مذاکرات ہو سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے کیس کے حوالے سے وزیر اعظم کے سر پر خطرات کے سائے منڈلا رہے ہیں جبکہ پاک آرمی کو بھی پلانٹڈ نیوز اور حکومت کے بھارت کی جانب جھکاﺅ سمیت متعدد ایسے ایشوز پر اعتراض ہے جس کی وجہ سے فوج اور عسکری قیادت کے درمیان تناﺅ میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے ‘ ترک صدر وزیر اعظم ‘ آرمی چیف سمیت اعلیٰ عدلیہ کی بعض شخصیات سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔