پاناما کیس کی تفصیلات سامنے آگیں

اسلام آباد(ہاٹ لائن ) سپریم کورٹ میں پاناما لیکس سے متعلق کیس کی 29 نومبرتک ملتوی کردی گئی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بیانات سے ہم یہ کہہ دیں لندن فلیٹس بلیک منی سےخریدےگئے؟ الزامات کی سو فیصدتصدیق تک آخری حدتک جائیں گے۔
پاناما لیکس کے معاملے پر وزیراعظم دائر درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے کی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہرسماعت پر پانچ سات متفرق درخواستیں آجاتی ہیں،ان درخواستوں پر رہےتو کیس کا فیصلہ نہیں کرسکیں گے۔ درخواست گزار طارق اسدایڈووکیٹ نے کہا کہ سب سے پہلی درخواست میں نے ہی دائر کی تھی۔ تمام کرپٹ افراد کااحتساب ہوناچاہیے۔ نوازشریف کےبعد دوسروں کا بھی احتساب کیا جائے۔
جسٹس آصف کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ احتساب کا آغاز کہیں سے تو ہون اہے، طارق صاحب! باتیں بہت ہوچکیں اب کام کرنےدیں۔ طارق اسد نے کہا کہ ایسا تاثر نہ جائےایک شخص کیخلاف کارروائی ہورہی ہے ،جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ حاکم وقت سےکارروائی کےآغازمیں کوئی قباحت نہیں۔ جسٹس شیخ عظمت نے ریمارکس دیے کیس کاآغاز تو کرنے دیں۔ درجنوں بار کہہ چکے باری باری سب کوسنیں گے، آپ ہمیں چلنے ہی نہیں دے رہے تو کام کیسے ہوگا۔ وکلاء عدالت کی معاونت کریں گیلری کونہ سنائیں۔ جسٹس عظمت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نیب نے یہ کہہ کرمعاملے سے خود کوالگ کرلیا کہ ان کااختیار نہیں۔ ادارے صرف تنخواہیں لینے کیلئے بنتے ہیں اور کام کی بات آئےتوکہتے ہیں ہمارا اختیار نہیں۔
پی ٹی آئی کے وکیل حامد خان نے اپنے دلائل میں کہا کہ پاناما میں وزیراعظم اوران کےخاندان کا نام آیا ہے۔ وزیراعظم نے معاملے پر 3 بارخطاب کیاجس پر ہم زیادہ انحصار کرینگے۔ وزیراعظم کےخطابات کی ریکارڈنگ عدالت میں پیش کر چکے جبکہ خطابات کامتن بھی موجود ہے۔ حامدخان نے 5 اپریل کو قومی اسمبلی میں کی گئی وزیراعظم کی تقریر کا متن پڑھ کرسنایا اور کہا کہ خطاب میں لندن جائیداد، دبئی سرمایہ کاری کا ذکر نہیں کیا گیا۔ 1976 میں پیدا ہونے والا حسن نواز 1984 سے لندن میں ہے۔ سعودی عرب میں اثاثےکب فروخت کئےیہ نہیں بتایا گیا اور تقریر میں لندن اثاثےخریدنے کا بھی کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔
حامد خان نے کہا کہ 22 اپریل 2016 کو وزیراعظم نے ٹی وی پر ایک اورخطاب کیا اور کہا کہ ان کی ذات پرکوئی الزام نہیں۔ وزیراعظم نےکہاخودکواحتساب کیلئے پیش کرتا ہوں۔ جسٹس شیخ عظمت نے کہا کہ وزیراعظم نے دفاع میں ایسی کوئی بات عدالت میں نہیں کی، عدالت میں تقریر پڑھنے سے کیا فائدہ ہوگا۔ جسٹس اعجاز الحسن نے ریمارکس دیے کہ خطاب قوم سےتھا، اگرغلط بیانی کی تو نتائج بھگتنا ہونگے۔
جسٹس آصف کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ وزیراعظم کا دوسرا خطاب سیاسی لگتا ہے، وزیراعظم نے دوسرے خطاب میں ٹھوس حوالہ نہیں دیا۔ جس پر حامد خان نے کہا کہ وزیراعظم نے کہا ان پر کچھ ثابت ہوا تو عہدہ چھوڑ دیں گے۔ جسٹس کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ وزیراعظم نے عہد خود سےکیا تھا آپ سے نہیں۔ وزیراعظم نے کہا الزامات 22 سال پرانے ہیں، الزامات کی جانچ پڑتال بھی ہوچکی ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ کیاایساکچھ ریکارڈ پر ہے؟اگر ایسا ہے تو تحقیقات کا نتیجہ دیکھنا چاہتے ہیں۔
حامد خان نے کہا کہ اسمبلی سےخطاب میں دبئی اسٹیل مل کا ذکرکیاگیا، وزیراعظم نے کہا کہ 9 ملین ڈالرمیں گلف اسٹیل مل فروخت کی گئی۔ مل کا افتتاح شیخ راشد المکتوم نےکیا، جس کی تصویر پیش کی گئی اور یہ کہا گیا کہ دبئی فیکٹری کے سرمایے نے جدہ مل لگانےمیں مدد کی۔ جدہ فیکٹری17ملین ڈالر میں فروخت ہونے کا کہا گیا۔ وزیراعظم نےلندن فلیٹس خریدنے کیلئے ان ذرائع کا بتایا۔
جسٹس شیخ عظمت نے کہا کہ کہانیاں تبدیل ہورہی ہیں،اس بات کااحساس ہے۔ جسٹس اعجازالحسن نے ریمارکس دیے کہ 1980میں گلف مل فروخت کی گئی اورجدہ اسٹیل مل2001 میں لگائی گئی۔ حامد خان نے کہا کہ دونوں سرمایہ کاریوں میں21سال کاوقفہ ہے، جدہ اسٹیل مل لگانےکی کوئی تاریخ نہیں دی گئی۔ جون2005 میں جدہ مل فروخت کرنے کا بتایا گیا، وزیراعظم نے کہا پاکستان سے ایک پیسہ باہر نہیں گیا، دونوں بچے باہر کاروبار کر رہے ہیں۔ مگر بچے کہاں اور کیا کاروبار کرر ہے ہیں، کچھ نہیں بتایا گیا۔ حامد خان نے مزید کہا کہ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ دبئی کیلئے سرمایہ کہاں سے آیا اور اتفاق فاؤنڈری کو چلانے کیلئے سرمایہ کہاں سے آیا۔
جسٹس شیخ عظمت نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شاید آپ چاہتے ہیں کیس آگے نہ چل سکے۔ آپ کا کیس ہے لیکن آپ سیاست کر رہے ہیں۔ کتنا ٹیکس دیا اس سے سروکار نہیں ، نہ ساری زندگی کی جانچ پڑتال کرنا ہمارا کام نہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بیانات سے ہم یہ کہہ دیں لندن فلیٹس بلیک منی سے خریدے گئے؟ الزامات کی100فیصد تصدیق تک آخری حد تک جائیں گے۔ مکمل تحقیقات تک ہم کسی نتیجے پر کیسے پہنچ سکتے ہیں؟
جسٹس شیخ عظمت نے ریمارکس دیے کہ دوسرے فریق کی دستاویزات پر ہماری رہنمائی کریں، فلیٹس اورکمپنیوں کی ملکیت پر کوئی جھگڑا نہیں۔ دوسرا فریق کہتا ہےگلف اسٹیل فروخت کرکے قرض اتارا، 25 فیصد شیئرز قطری خاندان کیساتھ پراپرٹی میں لگائےگئے۔ انہوں نے حامد خان سے مکالمہ کیا کہ جمع کرائی گئی دستاویزات پڑھیں شایدآپ کوکچھ مل جائے۔
جسٹس کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ جلد فیصلے کیلئے وکلا سے زیادہ ہم محنت کر رہے ہیں۔ منتخب وزیراعظم پر الزام غلط ہے تو ختم ہو، اور اگر درست ہے تو نتائج بھگتیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا فلیٹس کی مالیت سے متعلق کوئی دستاویز ہے؟
حامد خان نے 1999 کا لندن عدالت کا حکم پیش کرتے ہوئے کہا کہ 6 مارچ 1999 کو التوفیق کیس میں شریف خاندان کو 18 ملین ڈالر کی ادائیگی کا حکم دیا گیا۔ جسٹس شیخ عظمت نے ریمارکس دیے کہ لندن کی زمین کی تفصیلات میں صرف موجودہ نہیں سابق مالکان کا بھی ذکر ہوتا ہے۔ التوفیق کیس کا فیصلہ میاں شریف ،عباس شریف اور شہباز شریف کے متعلق تھا۔ نواز شریف، حسن اورحسین نواز کا کیس سے تعلق کیسے ثابت کریں گے۔
دوران سماعت پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری کی جانب سے ظفرعلی شاہ کیس کا حوالہ دینے پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ظفرعلی شاہ کیس پر زیادہ تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔ ایسےفیصلوں کاحوالہ دیا تو فل کورٹ تشکیل دینا پڑے گی۔
جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیے نوازشریف کا تقاریرمیں کیا گیا دفاع اپنی جگہ، ہم صرف اس دفاع کودیکھیں گےجو عدالت میں لیاگیا۔ جسٹس شیخ عظمت نے حامد خان سے مکالمہ کیا کہ آپ نےعدالت سےکم اورقوم سے زیادہ خطاب کیا ہے۔ آپ سے باربار کہا تھا اپنے کیس پر فوکس کریں۔
چیف جسٹس نے بتایا کہ آئندہ ہفتے بینچ کے دو اراکین دستیاب نہیں ہوں گے، کیس کی سماعت 30 نومبر تک ملتوی کر دی گئی۔ پی ٹی آئی کے وکیل حامد خان آئندہ سماعت پر بھی اپنے دلائل جاری رکھیں گے- (ن ی)