قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کا مطالبہ سامنے آ گیا

اسلام آباد (ہاٹ لائن ) فاٹا کے ارکان اسمبلی نے آئندہ انتخابات سے قبل قبائلی علاقوں کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس مرتبہ تاخیر ہوئی تو پھریہ موقع ہاتھ نہیں آئیگاجبکہ وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ حکومت فاٹا کے عوام کی محرومیوں کا ازالہ کرنے کیلئے سنجیدہ ہے‘ 2018ءمیں فاٹا کو خیبر پختونخوا اسمبلی میں نمائندگی دینے کی تجویز کابینہ میں زیر بحث لائینگے‘ ارکان اسمبلی کی تمام تجاویز اور سفارشات کی روشنی میں وفاقی کابینہ فاٹا اصلاحات بل کے مسودے کو حتمی شکل دے گی‘ دس سال میں فاٹا کی محرومیاں دور کردینگے، قابل تقسیم محاصل کا تین فیصد فاٹا کی بہتری کےلئے مختص کرینگے۔ فاٹا میں ہائیکورٹ کا دائرہ کار بڑھایا جائےگا وہاں پر بلدیاتی اداروں کے حوالے سے بھی کام شروع کردیا گیا ہے۔ پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں فاٹا اصلاحات کےلئے قائم خصوصی کمیٹی کی رپورٹ پر بحث کرتے ہوئے شہاب الدین خان نے کہا کہ ہم ان تمام جماعتوںکے شکر گزار ہیں جنہوں نے فاٹا اصلاحات کی حمایت کی ہے، فاٹا کے تمام علاقوں میں جاکر کمیٹی نے ہر طبقہ فکر کے لوگوں کی رائے لی، کمیٹی کی رپورٹ سب کےلئے قابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا میں1979ءسے جنگ مسلط ہے، رپورٹ کی مخالفت کا کوئی جواز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کی رپورٹ پر 2018ءتک عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور فاٹا کو خیبرپختونخوا کا حصہ بنانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ صاحبزادہ طارق اللہ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کا کام قابل ستائش ہے، کم سے کم وقت میں بہت اچھا کام کیا گیا ہے، ہم رپورٹ کےساتھ مکمل اتفاق کرتے ہیں، ایجنسیوں پر مشتمل علاقہ کے پی کے میں ضم ہونا چاہئے انہوں نے کہا کہ 2018ءسے پہلے ملک میں مردم شماری کرائی جائے تاکہ آئندہ عام انتخابات میں فاٹا کےلئے صوبائی اور قومی اسمبلیوں کی نشستوں کا تعین کیا جاسکے۔