رئیل سٹیٹ کے کاروبار پر ٹیکس کا مسئلہ حل ، بڑی خبر سامنے آ گئی

اسلام آباد (ہاٹ لائن)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ ، ریونیو ، اقتصادی امور ¾ شماریات و نجکاری کی ذیلی کمیٹی نے رئیل سٹیٹ کے کاروبار پر ٹیکس کے نفاذ اور فیس میں اضافے کا مسئلہ حل کرنے کے سلسلے میں شراکت داروں کی مشاورت سے تیار کی گئی تجاویز کا جائزہ لے کر حتمی شکل دیدی ہے ۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ، ریونیو، اقتصادی امور، شماریات و نجکاری کی ذیلی کمیٹی کا دوسرا اجلاس پیر کو میاں عبد المنان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس اسلام آباد میں ہوا۔ اجلاس میں رئیل سٹیٹ کے کاروبار پر ٹیکس کے نفاذ اور فیس میں اضافے کا مسئلہ حل کرنے کے سلسلے میں شراکت داروں کی مشاورت سے تیار کی گئی تجاویز کا جائزہ لے کر حتمی شکل دی گئی۔ کمیٹی نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کیلئے ایک فیصد ٹیکس کی ادائیگی کیلئے ایمنسٹی اسکیم جاری کرنے کا مطالبہ مسترد کردیا۔ ذیلی کمیٹی نے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے متعلق تجاویز تیار کیں جس کے تحت جائیداد کی ڈی سی اور ایف بی آر ریٹس کے درمیان فرق پر 3 سے 4 فیصد کی شرح سے ٹیکس لگایا جائے گا اور مرحلہ وار جائیداد کی قیمتوں کو مارکیٹ نرخوں پر کیا جائے گا۔ کمیٹی کے کنونیئر میاں عبد المنان نے کہاکہ یہ تجاویز منگل کو قو می اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ میں پیش کی جائیں گی اور پارلیمنٹ کے رواں سیشن میں بل منظوری کیلئے پیش کردیا جائے گا۔