روزویلٹ ہوٹل پر خصوصی رپورٹ


روزویلٹ ہوٹل کا شمار امریکہ کے تاریخی ہوٹلوں میں ہوتا ہے جس کی اوپننگ 1924 ءمیں ہوئی اور یہ دنیا کے مہنگے ترین علاقے مین ہیٹن نیو یارک میں واقع ہے۔ اس میں 1015 کمرے ہیں اور 22 لگژری سویٹس ہیں۔ 1969 میں پی آئی اے نے اس ہوٹل کو اس وقت لیز پر لیا جب اس کا بزنس کچھ مندہ چل رہا تھا ‘ پی آئی اے کے انویسٹمنٹ عام نے ایک سعودی شہزادے کے ذریعے یہ شاندار ڈیل کی جس کے تحت 20سال بعد پی آئی اے اس ہوٹل کو خرید سکتا تھا۔ 90 کی دہائی میں ہوٹل کے مالک نے عدالت میں مقدمہ کر دیا کہ جس معاہدے کے تحت پی آئی اے یہ ہوٹل خریدنے جا رہا ہے اس سے ملنے والی رقم مارکیٹ ویلیو سے بہت کم ہے۔ پی آئی اے کی انتظامیہ اپنے سفارتخانے کے ہمراہ امریکی کورٹ میں گئی اور مقدمہ جیت لائی۔ جس کے نتیجے میں 1999 ءمیں پی آئی اے کو صرف ساڑھے 36 ملین ڈالر میں یہ ہوٹل مل گیا۔ 2005 ءمیں مشرف دور میں پی آئی اے نے سعودی شہزادے کو 40 ملین ڈالر دے کر اس کے روز ویلٹ ہوٹل میں موجود چند پرسنٹ شیئرز بھی خرید لئے۔ مشرف دور میں 2006-2007 ءمیں پی آئی اے نے اس ہوٹل کی تعزین و آرائش میں 65 ملین ڈالر خرچ کر دیئے۔ 2009 ءمیں پی آئی اے نے اس ہوٹل کی مارکیٹ ویلیو کروائی اور اسے ایک بلین ڈالر یعنی (ایک ہزار ملین ڈالر) کے عوض بیچنے پر لگا دیا۔ بد قسمتی سے اس وقت امریکی اکانومی اور ہاﺅسنگ مارکیٹ کریش ہو چکی تھی جس کی وجہ سے یہ ہوٹل بک نہ سکا۔ پھر پی آئی اے نے اسے سیل کرنے کا پلان واپس لے لیا۔ اس ہوٹل کے اردگرد واقع کچھ ہوٹل پچھلے چند ماہ میں فروخت ہوئے۔ جس سے اندازہ ہو رہا ہے کہ ہوٹل سیکٹر میں انویسٹمنٹ آج کل پھر گرم ہو چکی ہے۔ روز ویلٹ کے سٹینڈر کے جتنے بھی ہوٹل مین ہیٹن کے علاقے میں پچھلے ڈیڑھ سال میں بکے ہیں ان کی اوسط قیمت 10 سے 14 لاکھ ڈالر فی کمرہ ہے۔ روز ویلٹ میں ایک 1015 کمرے ہیں اور 52 انتہائی لگژری سویٹس ہیں۔ اس حساب سے اس ہوٹل کی قیمت کم سے کم سے بھی 1200 ملین ڈالر یعنی 1.2 بلین ڈالر تک ہونی چاہئے۔ کہا جا رہا ہے کہ حکومت کا پی آئی اے کو پرائیویٹائز کرنے کا اصل مقصد یہ ہوٹل بیچنا ہے او رآپ کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ حکومت نے اس ہوٹل کا سودہ اپنے قریبی فرنٹ مین میاں منشاءکے ساتھ کر دیا ہے۔ جاننا چاہیں گے کہ یہ ہوٹل جس کی مارکیٹ ویلیو 1.2 بلین ڈالر ہے وہ حکومت نے کتنے میں بیچا ہے۔ یہ ہوٹل نواز شریف نے تقریباً 9 ملین ڈالر میں بیچا ہے یعنی اصل قیمت کا ایک پرسنٹ سے بھی کم۔ روز ویلٹ کے نام پر ایک بلین ڈالر سے زائد کا چونا لگانے والے اگر اپنے خلاف ہونے والی تحقیقات پر چاﺅں چاﺅں نہ کریں تو کیا میاں میاﺅں میاﺅں کریں۔