عام آدمی … ذوالفقار احمد راحت – PTI حکومت اور میڈیا مینجمنٹ

(تصحیح شدہ کالم)

عام آدمی…….. ذوالفقار احمد راحت
PTI حکومت اور میڈیا مینجمنٹ

خاکسار بہت پہلے سے کہتا چلا آ رہا ہے کہ پی ٹی آئی کی وفاق، پنجاب یا کے پی کے حکومت کا مسئلہ بیڈ گورننس، کرپشن یا نااہلی نہیں ہے بلکہ مسئلہ صرف اور صرف میڈیا مینجمنٹ کا ہے۔ یہ عرض مجھے براہ راست پارٹی سربراہ اور وزیراعظم پاکستان عمران خان کے گوش گزار کرنے کا بھی موقعہ ملا۔ ان کے دائیں بائیں موجود حضرات جن میں سے ہمارے بھی کئی مہربان ہیں، کئی ذاتی دوست بھی ہیں مگر اس بات کو سمجھنے کی بجائے گزشتہ 9 ماہ کے دوران میڈیا مینجمنٹ کے حوالے سے پنجاب اور وفاق میں طرح طرح کے انوکھے قسم کے تجربے کئے گئے، میڈیا مینجمنٹ کے شبہ میں ایسے ایسے ’ارسطو‘ اتارے گئے گئے جن میں سے اکثر کو میڈیا مینجمنٹ کے علاوہ دنیا کا ہر کام آتا تھا مگر….! مثال کے طور پر پنجاب میں بعض امپورٹڈ قسم کے حضرات کو میڈیا کے اوپر مسلط کر دیا گیا جن کو 9 ماہ گزرنے کے بعد بھی اگر صرف یہی پوچھ لیا جائے کہ گزشتہ 22 سالوں سے پی ٹی آئی کو سپورٹ کرنے والے 10 صحافیوں کے نام بتا دیں تو شاید جواب نفی میں ہو گا۔
کسی بھی حکومت، سیاسی پارٹی، ادارے کے میڈیا منیجرز کے لئے پہلا سبق یہ ہے کہ اس کے علم میں ہونا چاہئے کہ اس کی حکومت، اسکی پارٹی یا اسکے ادارے کا دوست یا دشمن کون ہے، پھر وہ دوستوں اور دشمنوں کو الگ الگ طریقے سے ڈیل کرتا ہے…. مگر یہاں تو نئے نئے تجربات کئے گئے…. جس نے منہ ٹیڑھا کر کے مشکل انگریزی کے چار فقرے بول دیئے وہ کارمختار بن گیا…. اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عثمان بزدار جیسے درویش صفت وزیراعلیٰ پنجاب کو مذاق بنانے کی کوشش کی گئی، ان کو ناکام وزیراعلیٰ اور ایک نکما منیجر ثابت کر کے موقع کی تلاش میں بعض حضرات نے وزیراعلیٰ پنجاب کے خواب دیکھنے شروع کر دیئے حالانکہ قصور وزیراعلیٰ یا انکی سیاسی اور بیوروکریٹک ٹیم کا نہیں تھا بلکہ قصور انکی میڈیا ٹیم کا تھا۔ آخر کیا وجہ ہے کہ وہ پنجاب جس کا گزشتہ 8 ماہ تک مذاق اڑایا جاتا رہا، آج اسکی تعریفیں شروع ہو گئی ہیں۔ لوگ ایک دوسرے سے پوچھنا شروع ہو گئے ہیں کہ پنجاب میں اچانک کیا ہو گیا ہے کہ کام ہوتا ہوا نظر آنے لگا ہے۔ اس کا جواب عام آدمی تو نہیں دے سکتا مگر میں آج دے سکتا ہوں…. اس کا جواب ہے پنجاب کی نئی میڈیا ٹیم…. جنکی میڈیا کے لوگ نہ صرف دل سے عزت کرتے ہیں بلکہ ان کی محبت میں بہت سے صحافی بہت کچھ کرنے کیلئے ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ آج کے دور میں میڈیا مینجمنٹ ایک سائنس بن چکی ہے، آج دو اخبار اور ایک چینل کا دور نہیں ہے بلکہ آج ڈیڑھ سو سے زائد نیشنل اور انٹرنیشنل چینلز اور سینکڑوں اخبار ہیں، میڈیا کے اس انقلاب میں میڈیا مینجمنٹ کو بھی اس کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا پڑے گا ورنہ جو ادارہ، حکومت یا تنظیم ایسا نہیں کریگی وہ بہت پیچھے رہ جائیگی۔ ایک وقت تھا میڈیا منیجر صرف ایک پریس ریلیز جاری کر کے سمجھتا تھا کہ اس نے بہت بڑا تیر مار لیا ہے، آج وہ وقت گزر گیا، معاملہ پریس ریلیز سے بہت آگے جا چکا…. آج ان ڈائریکٹ میڈیا مینجمنٹ کا دور ہے، دوسرے لوگ آپ کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں، اپنے منہ سے میاں مٹھو بننے کا دور گزر چکا، اگر دوسروں کی رائے اپنے بارے تبدیل کرنی ہے تو اس کے لئے پورے حالات، فضا اور تاثر بدلنا ہو گا۔ اس کے لئے کالم نگاروں، ورکنگ جرنلسٹوں، ٹی وی اینکرز اور تجزیہ کاروں سے بار بار ملنا پڑے گا۔ اس کے لئے پلاننگ، مینجمنٹ اور ویژن کی ضرورت ہے اور اس کے لئے ایک مربوط اور بالغ نظر ٹیم کی ضرورت ہے اور ایسی ٹیم پنجاب حکومت اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو سیکرٹری اطلاعات مومن آغا، راجہ جہانگیر اور اسلم ڈوگر کی صورت میں میسر آ چکی ہے جبکہ وزیر اطلاعات پنجاب صمصام بخاری کی طرف سے مکمل تعاون، سپورٹ اور فری ہینڈ نے اپنی ٹیم کو مزید مضبوط بنا دیا ہے۔
میں ہمیشہ سے اس مفروضے کا حامی رہا ہوں کہ انفارمیشن کے شعبہ کے لوگوں کو ہی میڈیا مینجمنٹ اور اطلاعات کے شعبے میں لگایا جانا چاہئے مگر مومن آغا اور راجہ جہانگیر کی شبانہ روز محنت، صحافی برادری سے پرخلوص محبت اور دوستیوں نے میرا یہ تاثر بدل کر رکھ دیا ہے۔ یہ ایسے لوگ ہیں جن سے ملکر ایسے لگتا ہے کہ یہ تیار ہی اسی مقصد کے لئے ہوئے تھے، ان کے اخلاق کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ حضرات اپنی محنت اور خلوص کی طاقت سے کسی بھی ناممکن ٹاسک کو ممکن بنا سکتے ہیں۔ مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی میں فرق اسی حوالے سے ایک ہے…. وہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی چھوٹی سے چھوٹی غلطی نواز لیگ کی بڑی سے بڑی خوبی بن جاتی ہے جبکہ نواز لیگ کا بڑے سے بڑا بلنڈر بھی پی ٹی آئی کی خوبی میں تبدیل نہیں ہوتا۔ وزیراعظم عمران خان کو اس کی وجہ تلاش کرنی چاہئے۔ ایک طرف پنجاب میں دن بدن میڈیا مینجمنٹ کے حوالے سے صورتحال بہتر ہونا شروع ہو گئی ہے دوسری جانب وفاقی محکمہ اطلاعات میں ٹاپ لیول پر ایسے افسران بھی موجود ہیں جو صحافیوں سے ہاتھ ملانا اس لئے پسند نہیں کرتے کہ ان کو جراثیم لگ سکتے ہیں! شاید اسی وجہ سے وہ واش روم کی چابی بھی اپنے دراز یا جیب میں رکھتے ہیں۔ بقول محترم قبلہ رحمت علی رازی یہ وہ کلاکار ہیں اگر ایسے افسران سے کسی کا غلطی سے فائدہ ہو جائے تو یہ اس پر بھی ایک ہائی لیول کمیٹی بنا دیتے ہیں تاکہ انکوائری کر کے پتہ لگایا جا سکے کہ میرے ہاتھ سے کسی کا فائدہ کیسے ہو گیا! محترمہ فردوش عاشق اعوان صاحبہ جیسی عوامی مشیر اطلاعات و نشریات کو فوری طور پر وزارت اطلاعات کی صفوں کی درستگی کیلئے اقدامات کرنا ہونگے۔ وزارت اطلاعات میں تجربہ کار اور میڈیا فرینڈلی افسران کو لگانا ہو گا۔ اگر وفاق میں بیٹھے حضرات اس سوال کا جواب تلاش نہ کر سکیں تو پھر پنجاب سے مومن آغا اور راجہ جہانگیر کو عثمان بزدار سے کچھ دنوں کے لئے وفاق میں لے جائیں، مسئلہ حل ہو جائیگا۔